تعارف

1974ء میں دنیا کی مذہبی ،معاشرتی اور قانونی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ وقوع پذیر ہوا ۔دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی اسمبلی نے یہ فیصلہ کیا کہ کسی گروہ یا جماعت کے مذہب کا کیا نام ہونا چاہیے اور یہ کہ وہ خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ یہ عجیب واقعہ پاکستا ن میں ہوا جہاں قومی اسمبلی کو اس بات کا مجاز بنایا گیا کہ وہ فیصلہ کرے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نبی کو مانتا ہے اس کی اسلام میں کیا حیثیت ہے؟قومی اسمبلی کے پورے ایوان کوسپیشل کمیٹی بنایا گیا۔ اس سپیشل کمیٹی کے سامنے جماعت احمدیہ نے اپنا موٴقف دلائل کے ساتھ ’’ محضر نامہ‘‘کی شکل میں پیش کیا اور یہ بات بیان کی کہ دنیا کی کسی سیاسی اسمبلی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرے اور یہ فیصلہ کرے کہ کس کا کیا مذہب ہے

7 ستمبر 1974ء کو قانونی اغراض ومقاصد کے لیے جماعت احمدیہ کو پاکستان میں غیر مسلم قرار دے دیا گیا ۔ چاردہائیوں کے بعد قومی اسمبلی کی خفیہ کاروائی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعدمحترمہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا صاحبہ سپیکر قومی اسمبلی کے حکم پر شائع ہوئی ہے ۔اس کاروائی کو پڑھ کر بڑی آسانی سے پرکھا جا سکتاہے کہ کس کا موٴقف مضبوط دلائل پر مشتمل تھا اور کون غلط حوالے پیش کرکے اور اصل موضوع کو چھوڑ کر غیر متعلقہ بحثوں میں پڑا ہوا تھا ۔سپیشل کمیٹی کو چاہیے تھا کہ اپنے ہی مقرر کردہ موضوع پرزیادہ بحث کرتی لیکن صاف نظر آتا ہے کہ اصل موضوع ختم نبوت کو چھوڑ کر ادھر ادھر کی باتوں کو زیادہ وقت دیا ۔جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ مخالفین احمدیت کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ جماعت احمدیہ نے نہایت وضاحت سے بتا دیا تھا کہ اگر ایک دفعہ اس قسم کا فیصلہ کیا گیا تو ایسا سلسلہ شروع ہو گا جس کے نتائج نہایت بھیانک ہونگے۔

ہمیں امید ہے کہ اس تناظر میں صحیح جوابات کے متلاشی اس ویب سائٹ پر موجود ہنگامی شوریٰ 1973ء کی کاروائی ،محضر نامہ اور1974ء کی خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ؟کتاب کو اچھی طرح پڑھیں گے۔اور یقینا انصاف پسند طبائع صحیح نتائج تک بآسانی پہنچ جائیں گی۔