ڈاکٹر مبشر حسن صاحب کے ایک انٹرویو پر تبصرہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ڈاکٹر مبشر حسن صاحب کے ایک انٹرویو پر تبصرہ:1974 کی کارووائی کے دوران مسئلہ تکفیر

(ڈاکٹرمرزاسلطان احمد)

Download as PDF

1974 میں پاکستا ن کی پارلیمنٹ نے ایک انوکھی قرارداد منظور کی تھی اور یہ قرارداد دوسری آئینی ترمیم کے نام سے معروف ہے ۔اس ترمیم کے ذریعہ جماعت ِ احمدیہ کو قانون اور آئین کی اغراض کے لئے غیر مسلم قرار دیا گیا۔ اتنی دہائیاں گذرنے کے بعد بھی یہ آئینی ترمیم بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔اور اب جب کہ تنگ نظری اور مذہبی تعصب کی آگ نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور گذشتہ سالوں میں ہزاروں پاکستانیوں کا خون بہہ چکا ہے، اس قرارداد پر مختلف احباب اپنی اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔1974میں مکرم ڈاکٹر مبشر حسن صاحب قومی اسمبلی کے ممبر بھی تھے اور کابینہ میں وزیر ِ خزانہ بھی تھے۔ چند ماہ پہلے ایک جریدہ Newslineمیں ڈاکٹر مبشر حسن صاحب کا ایک انٹرویو شائع ہوا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے ایک ایسی بات فرمائی ہے جس کے بارے میں حقائق بیان کرنے ضروری ہیں۔ لیکن انصاف کا تقاضہ ہے کہ سب سے پہلے مکرم ڈاکٹر مبشر حسن صاحب کے معین الفاظ درج کیے جائیں۔انہوں نے اس موقع کا ذکر کرتے ہوئے جب حضرت امام جماعت ِ احمدیہ قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں جماعت ِ احمدیہ کا موقف پیش فرما رہے تھے کہا:

The Ahmadi leader also said something in the National Assembly which was also held against them. In answer to a question, the Ahmadi leader said that according to his faith, he considered all those Muslims who did not believe in the prophethood of Mirza Ghulam Ahmad as infidels(Kafirs)

(Newsline November 2017, p 37)

ترجمہ: احمدیوں کے لیڈر نے ایک ایسی بات کہی جسے ان کے خلاف پیش کیا گیا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے عقیدہ کے مطابق جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے وہ کافر ہیں۔

اور اس کے کچھ روز کے بعد ڈاکٹر اشتیاق صاحب نے ڈیلی ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں بھی اس قسم کا دعویٰ کیا۔یہ با ت تو سب کے علم میں ہے کہ 1974میں قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں ہونے والی کارووائی کو کئی دہائیوں تک خفیہ رکھا گیا اور اس دوران اس قسم کے دعاوی شہرت پاتے رہے کہ جب اس کمیٹی میں امام جماعت ِ احمدیہ سے سوال کیا گیا کہ جو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی کو تسلیم نہیں کرتا اُس کو آپ کیا سمجھتے ہیں؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ اور یہ وجہ تھی کہ قومی اسمبلی نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ اور جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ اب مکرم ڈاکٹر مبشر حسن صاحب جو اس وقت قومی اسمبلی کے ممبر تھے انہوں نے بھی یہی دعویٰ دہرایا ہے۔لیکن یہاں ایک خیال ہر ایک دل میں پیدا ہوگا اور وہ سوال یہ ہے کہ اب تو یہ کارووائی شائع ہو چکی ہے ۔ اس پس منظر میں جب کہ اتنی دہائیوں سے یہ دعویٰ پیش کی جا رہا ہے تو کیوں نہ اس دعوے کی صداقت کو پرکھ لیا جائے کہ یہ دعویٰ صحیح ہے کہ غلط ہے۔

قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں جب جماعت ِ احمدیہ کے وفد سے سوالات کا سلسلہ شروع ہوا تو اس بابت بارہا سوالات کئے گئے۔یحییٰ بختیار صاحب نے 7اگست 1974کوحضرت امام جماعت ِ احمدیہ سے سوال کیا کہ اگر ایک شخص بانی سلسلہ احمدیہ کے دعاوی کو تسلیم نہیں کرتا اس کو آپ کیا سمجھتے ہیں۔ قومی اسمبلی کی طرف سے جو کارروائی شائع کی گئی ہے ، اس کے مطابق حضرت امام جماعت ِ احمدیہ نے یہ جواب دیا :

ِِ”جو شخص حضرت مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتا لیکن وہ نبی ِ اکرم ﷺ حضرت خاتم الانبیاء کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے اس کو کوئی شخص غیر مسلم کہہ ہی نہیں سکتا۔“

اتنے واضح جواب کے بعد بھی یحییٰ بختیار صاحب نے یہ سوال دہرایا تو حضرت امام جماعت ِ احمدیہ نے پھر یہ واضح جواب دیا :

”میں تو یہ کہہ رہا ہوں Categoricallyہر شخص جو محمد ﷺ کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے وہ مسلمان ہے۔۔۔۔۔اور کسی دوسرے کو اس کا حق نہیں ہے کہ اس کو غیر مسلم قرار دے۔“(کارروائی صفحہ406)

مکرم ڈاکٹر مبشر حسن صاحب کے انٹرویو میں اور ڈاکٹر اشتیاق صاحب کے مضمون میں جو بیان کیا گیا تھا اس کے ساتھ کوئی حوالہ نہیں دیا گیا تھا لیکن ہم نے اس اشاعت سے معین حوالہ پیش کیا ہے جسے قومی اسمبلی کے عملہ نے مرتب کیا تھا، جماعت کے مخالف ظفر انصاری صاحب نے اس کی تصحیح کی اور قومی اسمبلی کی طرف سے ہی اسے شائع کیا گیا۔ یہ کارووائی انٹر نیٹ پر موجود ہے ۔ ہر کوئی اسے دیکھ کر اپنی تسلی کر سکتا ہے۔

اس سے قبل5 اگست 1947کو بھی حضرت امام جماعت ِ احمدیہ نے یہ اصولی موقف بیان فرمایا :

”اور یہabsolute rightہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں کہ نہیں۔“(کارروائی صفحہ42)

اور اسی روز آپ نے فرمایا:

”ہاں جو کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں ، اسکو مسلمان ہمیں کہنا پڑے گا۔“(صفحہ 44)

” اگر وہHypocrite اسلام، قرآن ِ کریم یہ کہتا ہے تم نے پھر بھی اس کو مسلمان کہنا ہے۔“(کاروائی صفحہ45اور)

6اگست کو ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا

”جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے وہ مسلمان ہے۔“(کاررروائی صفحہ 240)

ہم نے کوئی ہوائی بات نہیں لکھی جس کے ساتھ کوئی حوالہ درج نہ ہو بلکہ ہر جملہ جو درج کیا گیا ہے اس کے ساتھ اُس شائع ہونے والی کارووائی کا صفحہ نمبر درج کیا گیا ہے جو کہ خود قومی اسمبلی کی طرف سے شائع کی گئی ہے ۔اور یہ حوالے بالکل واضح ہیں اور اُس بات کی تردید کر رہے ہیں جو کہ مکرم مبشر حسن صاحب اور مکرم ڈاکٹر اشتیاق صاحب نے پیش فرمائی تھی۔ جواس موقف سے اختلاف رکھتے ہیں ، اب اُن کا فرض ہے کہ اپنے دعوے کے حق میں وہ بھی معین حوالہ پیش کریں۔

البتہ یہ بات بیان کرنا ضروری ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب کئی روز گھما پھرا کر سوالات کرکے یہ کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح امام جماعت ِ احمدیہ یہ بات فرما دیں کہ ہم غیر احمدی مسلمانوں کو ملت ِ اسلامیہ سے خارج سمجھتے ہیں۔لیکن نتیجہ وہی نکلا جس کو ہم بیان کر چکے ہیں۔البتہ اس کارووائی کے دوران ایک واقعہ اور ہوا تھا جسے بیان کرنا ضروری ہے۔

جب دو روز جماعت ِ احمدیہ کا موقف ایک محضرنامے کی صورت میں پیش کیا گیا اور پھر اس کے بعد بھی سوال و جواب کے دوران خاص طور پر 6اگست 1974کے روز مختلف مسلمان فرقوں کے ایک دوسرے خلاف ایسے فتاویٰ پیش کئے گئے جن کی وجہ سے خاص طور پر مذہبی سیاسی جماعتوں کے لئے خاص طور پر پریشان کن صورت ِ حال پیدا ہو گئی۔اس پریشانی کی وجہ سمجھنے کے لئے ان میں سے بعض فتاویٰ کا مختصراََ جائزہ لینا ضروری ہے۔مثلاََ شیعہ احباب کے بارے میں بریلوی سنیوں کے قائد احمد رضا خان صاحب کا یہ فتویٰ ممبران قومی اسمبلی کے سامنے پیش کیا گیا:

” بالجمع ان رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی اجماعی یہ ہے ۔کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں۔ ان کا ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے ۔انکے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زنا ہے معاذاللہ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہوتویہ سخت قہر الہی ہے۔ اگر مرد سنی اور عورت ان خبیثوں میں کی ہوتب بھی ہر گز نکاح نہ ہو گا ۔محض زنا ہوگا ۔ اولاد الد الزنا ہو گی ۔باپ کا ترکہ نہ پائے گی ۔ اگر چہ اولاد بھی سنی ہو ۔ کہ شرعاََ ولدالزنا کا کوئی باپ نہیں۔ عورت نہ ترکہ کی مستحق ہو گی نہ مہر کی کہ زانیہ کے لئے مہر نہیں۔ رافضی اپنے کسی قریب حتیٰ کہ باپ بیٹے ماں بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پا سکتا۔“

(رد الرافضہ از مولوی محمد احمد رضا خان ، 1320 ھ ناشر نوری کتب خانہ بازار داتا صاحب صفحہ23)

پھر بریلویوں کے عقائد بالخصوص مولوی احمد رضا خان بریلوی صاحب کے عقائد کے بارے میں دیوبندی احباب کا یہ فتویٰ پیش کیا گیا:

”جو شخص اللہ جل شانہ کے سوا علم ِ غیب کسی دوسرے کو ثابت کرے اور اللہ تعالیٰ کے برابر کسی دوسرے کا علم جانے وہ بے شک کافر ہے اس کی امامت اس سے میل جول محبت مودت سب حرام ہیں۔“

(فتاوٰی رشیدیہ کامل محبوب از رشید احمد گنگوہی صاحب ناشر محمد سعید اینڈ سنز ص62)

اُس وقت قومی اسمبلی میں مفتی محمود صاحب کی جمیعت العلماء اسلام اور مودودی صاحب کی جماعت ِ اسلامی دونوں مل کر جماعت ِ احمدیہ کے خلاف سرگرم تھے ۔ جبکہ کچھ عرصہ قبل مفتی محمود صاحب نے مودودی صاحب کے بارے میں یہ فتویٰ داغا تھا:

” مودودی گمراہ کافر اور خارج از اسلام ہے۔ اس کے اور اس کی جماعت سے تعلق رکھنے والے کسی مولوی کے پیچھے نماز پڑھنا نا جائز اور حرام ہے ۔ اس کی جماعت سے تعلق رکھنا صریح کفر اور ضلالت ہے۔“

(ہفت روزہ زندگی 10 نومبر 1969 ص30)

اور بریلوی احباب کا فتویٰ وہابی احباب کے متعلق یہ ہے:

”وہابیہ و غیر مقلدین ِ زمانہ باتفاق علماء ِ حرمین شریفین کافر مرتد ہیں۔ایسے جو ان کے اقوال ِ ملعونہ پر اطلاع پا کر انہیں کافر نہ جانے یا شک ہی کرے خود ہی کافر ہے۔ ان کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہیں۔ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حرام ۔ ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں۔ ان کا نکاح کسی مسلمان کافر مرتد سے نہیں ہو سکتا۔“

(فتاویٰ ثنائیہ جلد دوم مرتبہ محمد داوٴد راز ، ناشر مکتبہ اشاعت دینیات مومن پورہ بمبئی ص409)

پھر مودودی صاحب کے بارے میں یہ فتویٰ بھی ممبران ِ اسمبلی کے علم میں لایا گیا:

”حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ہے ۔کہ اصلی دجال سے پہلے تیس دجال اور پیدا ہوں گے ۔جو اس اصلی دجال کا راستہ صاف کریں گے میری سمجھ میں ان تیس دجالوں میں ایک مودودی ہیں۔“

( حق پرست علماء کی مودودیت سے ناراضگی کے اسباب مرتبہ مولانا احمد علی صاحب ناشر دفتر انجمن خدام الدین لاہور ص90)

یہ تو صرف چند مثالیں ہیں ایسی بہت سی مثالیں محضرنامہ میں پیش کی گئی تھیں اور اس کے علاوہ ایک ضمیمہ بھی پیش کیا گیا تھا جس میں باہمی فتاویٰ تکفیر کا ایک مستند مجموعہ شامل کیا گیا تھا۔ یہ صورت ِ حال قومی اسمبلی میں مخالفین ِ جماعت احمدیہ کے لئے بہت پریشان کن تھی۔جب 6اگست کو اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال اُٹھانا شروع کیا کہ جماعت ِ احمدیہ دوسرے فرقے کے مسلمانوں کو کیا مسلمان سمجھتے ہیں یا غیر مسلم سمجھتے ہیں تو حضرت امام جماعت ِ احمدیہ نے اپنے جواب دیئے جن کا ذکر ہم کر چکے ہیں لیکن اس کے ساتھ اُن فتاویٰ کو پڑھنا شروع کیا جن میں باقی فرقوں نے ایک دوسرے کو کافر غیر مسلم اور مرتد قرار دیا ہے۔اب صورت ِ حال یہ تھی کہ مخالفین اپنے ہی جال میں خود پھنس رہے تھے۔اس وقت سپیکر صاحب نے یہ کہہ کر یہ سلسلہ روکنے کی کوشش کی کہ یہ فتاویٰ تو محضرنامہ میں درج کئے گئے ہیں۔اس پر اس کارروائی کے مطابق حضرت امام جماعت ِ احمدیہ نے ارشاد فرمایا کہ اگر سوال دہرایا جائے گا توا س کے جواب میں یہ فتاویٰ بھی دہرائے جائیں گے۔

(کارووائی صفحہ 229)

اس موقع پر خفت مٹانے کے لئے اٹارنی جنرل صاحب نے یہ ایک دوسرے پر کفر کے فتاویٰ کی یہ توجیہہ پیش کرنے کی کوشش کی:

” وہ تو یہ کہتے ہیں جی کہ کسی ایک نے فتویٰ دے دیا۔۔۔۔کسی الیکشن کے جوش میں “

(صفحہ 248)

حالانکہ ان فتاویٰ کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں تھا اور کئی فتاویٰ تو اس وقت کے تھے جبکہ الیکشنوں کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔مفتی محمود صاحب ان فتاویٰ کو بار بار سامنے آنے سے روکنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اس صورت ِ حال سے گھبرا کر کہا :

”مسلمانوں کے فرقوں کے درمیان جو تکفیر کا مسئلہ تھا وہ ساری عبارتیں پڑھتا گیا ۔ وہ بالکل سوال سے متعلق بات نہیں تھی۔ تو وہ جو سوال سے بالکل غیر متعلق کوئی بات کہتے ہیں تو اس کو کم از روکنا چاہیے۔۔۔“

(صفحہ 253)

حضرت امام جماعت ِ احمدیہ نے جو فتاویٰ پڑھے تھے ان میں دیوبندیوں کے خلاف فتاویٰ تھے۔ ان پر غصہ میں آ کر مولوی غلام غوث ہزاروی صاحب نے کہا :

” علماء ِ دیوبند پر جھوٹے الزام لگے ۔۔۔“

(صفحہ 255)

لیکن اس موضوع پر بات خطرناک ہو سکتی تھی ۔ اس لیے سپیکر صاحب نے انہیں بات مکمل نہیں کرنے دی۔ اور جو کچھ انہوں نے کہا اس سے صرف ان کی بے بسی ظاہر ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا:

” میں کیا کروں جی ؟ ۔۔۔ان کو روکیں نہ جی ۔“

(کارووائی صفحہ 255)

بہر حال روکنے سے کیا ہو سکتا تھا ۔ جو مواد اُس وقت پیش کیا گیا تھا وہ ہر ذی شعور کے ہوش اُڑانے کے لئے کافی تھا کہ ان مولوی حضرات کا بس چلے تو دنیا میں ایک مسلمان بھی باقی نہ چھوڑیں ۔ سب کو کافر قرار دے دیں۔ایک ممبر غلام رسول تارڑ صاحب نے کہا:

” جناب ِ اٹارنی جنرل صاحب کی خدمت میں عرض کروں گا کہ جو فتوے پڑھے گئے ہیں۔مرزا صاحب نے پڑھے ہیں فتوے ان کی تردید علماء ِ دین جو کی ہوئی ہے وہ اگر کسی ان ممبران یا مولانا صاحب کے پاس ہو تو ان کی بابت چونکہ تسلی کرنی چاہیے، اگر تردید ہے تو یہاں جو بیان ہوا ہے اس کا اثر کچھ اچھا نہیں ہو گا۔۔۔“

( کارووائی صفحہ257)

تردید ہوتی تو سامنے لائی جاتی۔ لیکن اُس موقع پر موضوع بدلنے کے لئے عزیز بھٹی صاحب نے کہا کہ مفتی محمود صاحب نے کہا ہے کہ تردید کی گئی تھی ۔ جب اٹارنی جنرل صاحب مناسب سمجھیں گے یہ تردید پیش کر دی جائے گی۔ سب کارووائی ختم ہو گئی لیکن وہ مناسب موقع پیدا نہ ہوا جب ان فتاویٰ کی تردید پیش کی جاتی۔ اور نہ ہی یہ ہمت کر سکے اس ضمن میں جماعت ِ احمدیہ کی طرف سے جو نکات پیش کئے گئے تھے کم از کم ان کاجواب دینے کی ہمت کر سکتے۔یہاں تک کارووائی کے آخر میں کہ ایک ممبر اسمبلی عنایت الرحمن خان عباسی صاحب کو یہ نشاندہی کرنی پڑی کہ ان نکات کا جواب اب تک نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا:

” انہوں نے ایسے فتوے پیش کئے ہیں جن میں ایک خیال کے علماء کی طرف سے دوسرے خیال کے علماء کے خلاف یا مسلمانوں کے خلاف بہت سارے نا زیبا اور نا روا الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اس لئے میں آپ کی وساطت سے جناب مولانا صاحب سے گذارش کروں گا کہ آپ جج بے شک رہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ اگر آپ ایسے دو یا تین علماء صاحبان جو یہاں بیٹھے ہیں ان کو اگر موقع فراہم کریں کہ کم از کم ان کے اعتراضات اور charges کا جواب دیں۔“

(کارووائی صفحہ 1865)

پہلے تو یہ کہا گیا تھا کہ مناسب موقع پر باہمی فتاویٰ کفر کا جواب دیا جائے گا۔لیکن بعد میں سپیکر صاحب کو کہنا پڑا کہ پرائیویٹ طور پر ڈسکس کر لیں۔ گویا وہ اس موضوع پر بات آگے بڑھانے سے خائف تھے ۔اور فوراََ اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

ممبر میں موجود بہت سے علماء ممبر صاحبان موجود تھے لیکن انہوں نے ان فتاویٰ سے پیدا ہونے والے مسئلہ کا کوئی حل نہیں پیش کیا۔ یہ امر حیران کن ہے کہ دوران ِ کارووائی اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت امام جماعت ِ احمدیہ سے دریافت کیا کہ ان فتووں سے کیا مراد لینی چاہیے ۔ کیونکہ جو فتاویٰ پڑھے گئے تھے ان میں مسلمانوں کے ہر فرقہ کو کافر قرار دیا گیا تھا۔اس پر جواب دیا گیا یہ تو ان سے پوچھنا چاہیے جنہوں نے یہ فتاویٰ دیئے ہیں۔ لیکن اٹارنی جنرل صاحب نے اپنے سوال کو دہرایا ۔اس پر حضرت امام جماعت ِ احمدیہ نے فرمایا کہ میرا ذہن تو حسن ِ ظن کی طرف مائل ہوتا ہے اور ان فتاویٰ میں اگر دائرہ اسلام سے خارج ہونے کے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں تو اس سے مراد ملت ِ اسلامیہ سے خارج ہونا نہیں ہے۔(کارروائی صفحہ232 و 233) اور آپ نے بار بار اس مسئلہ کا یہی حل تجویز فرمایا کہ اگر کسی فتویٰ میں ایک کلمہ گو کے متعلق کافر کے الفاظ بھی استعمال ہو ں تو اس سےمراد صرف گنہگار ہونے کی ہوتی ہے ۔اور اس سے مراد یہ نہیں کہ جس کے خلاف فتویٰ دیا گیا تھا وہ ملت ِ اسلامیہ میں شامل نہیں ہے۔جب کسی بھی مسلمان فرقہ کے فتاویٰ میں ایسا فتویٰ ملتا ہے جس میں ایک کلمہ گو کے متعلق کفر یا دائرہ اسلام سے خارج ہونے کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں تو اس سے مراد صرف یہ لینا چاہیے کہ فتویٰ دینے والے کے نزدیک یہ شخص گنہگار ہے ۔ اس کا مطلب ملت ِ اسلامیہ سے خارج ہونے کا نہیں ہوتے۔نہ ہی ایسے فتاویٰ کی بنیاد کو قانونی طور پر کسی کلمہ گو کو اور پانچ ارکان ِ اسلام کو تسلیم کرنے والے کو غیر مسلم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں آپ نے امام ابن ِ تیمیہ کا حوالہ بھی پیش فرمایا۔

(کارووائی صفحہ215)