محضر نامہ

تعار ف محضر نامہ

              محضر نامہ وہ اہم تاریخی دستاویز ہے جو جماعتِ احمدیہ نے 1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کے سامنے اپنے مسلمان ہونے، اپنے بنیادی عقائد کی وضاحت اور جماعت پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی تردید کے لئے پیش کی تھی اور یہ بات شروع میں ہی واضح کر دی گئی تھی کہ جماعتِ احمدیہ کے نزدیک دُنیا کی کسی اسمبلی یا عدالت کو کسی شخص یا جماعت کے مذہب کی تعیین کا قطعاً کوئی اختیار نہیں کیونکہ اِس کا اختیار صرف خدا تعالیٰ کو ہے جو دلوں کے بھید سے واقف ہے۔ اِسی طرح درد بھرے الفاظ میں یہ انتباہ بھی کیا گیا تھا کہ یہ اسمبلی احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر اُمّتِ محمدیہ (صلی الله علیہ وسلم) کے اِتحاد میں رخنہ ڈالنے کا موجب نہ بنے کیونکہ اِس سے ایک ایسی غلط اور خوفناک مثال قائم ہو گی جو آئندہ دوسرے فرقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

              جو محضر نامہ جماعتِ احمدیہ کو پیش کرنے کی توفیق ملی تھی وہ مِن و عَن ایک اہم تاریخی دستاویز کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ اِس محضر نامہ کے پیش کرنے کے بعد گیارہ روز تک پاکستان کی قومی اسمبلی میں ملک کے اٹارنی جنرل اور مختلف علماء کی طرف سے جماعتِ احمدیہ پر بشدّت تنقید کی گئی اور اُس وقت کے امام جماعتِ احمدیہ حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ الله تعالیٰ نے پیش کردہ تمام اعتراضات کا ٹھوس، مدلّل اور اطمینان بخش جواب دیا۔

مکمل کتاب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

مکمل کتاب انگریزی زبان میں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

مضمون وار کتا ب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

محضر نامہ کے ضمیمہ جات 

باہمی فتاوی کفر(ضمیمہ محضر نامہ)

القول المبین فی تفسیر خاتم النبیین(ضمیمہ محضر نامہ)