کاروائی خصوصی کمیٹی 1974ء شائع کردہ حکومت پاکستان

               اس کارروائی کے دوران ہی اس کا ریکارڈ محفوظ کرنے کے حوالے سے ایسی باتیں سامنے آئیں جن سے یہ بات واضح ہوتی تھی کہ انصاف کے معروف تقاضے پورے نہیں کئے جا رہے۔ دنیا بھر کی عدالتوں میں یہ طریقہ کار ہے کہ جب کوئی گواہ بیان دیتا ہے تو اس کے بیان کا تحریری ریکارڈ گواہ کو سنایا جاتا ہے اور دکھایا جاتا ہے اور وہ اس بیان کو تسلیم کرتا ہے تو پھر یہ بیان ریکارڈ کا حصہ بنتا ہے۔ لیکن اس کارروائی کے دوران حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ نے فرمایا کہ ہمیں بھی اس کی کاپی دی جائے لیکن انکار کیا گیا اور ایک ممبر اسمبلی کی طرف سے بھی یہ سوال اُٹھایا گیا کہ کیا جماعتِ احمدیہ کے وفد کو اس کی کاپی دی جائے گی تو سپیکر صاحب نے کہا کہ ان کو اس کی کاپی نہیں دی جائے گی۔

            جس دن قومی اسمبلی نے آئین میں دوسری ترمیم کے منظوری دی اس روز وزیر ِ اعظم نے قومی اسمبلی میں تقریر کی اور اس میں کہا کہ گو ابھی اس کارروائی کو خفیہ رکھا گیا ہے لیکن بعد میں اس کو منظر ِ عام پر لایا جائے گا۔بعد ازیں یہ اعلان کیا گیا کہ قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کی اس کارروائی کا تحریری ریکارڈ مرتب کرنے کا کام مولوی ظفر احمد انصاری صاحب کے سپرد کیا گیا ہے۔(یہ ممبر قومی اسمبلی جماعت ِ احمدیہ کے اشد مخالف تھے )اس کے بعد ایک طویل خاموشی طاری ہو گئی۔

            کئی سال گزرے۔دہائیاں گزریں۔جماعتِ احمدیہ کی طرف سے بار بار مطالبہ کیا گیا کہ اس کارروائی کو منظر ِ عام پر لایا جائے مگر دوسری طرف سکوتِ مرگ طاری تھا۔

            آخر کار اس واقعہ کے 36سال بعد ہائی کورٹ میں دائر ہونے والے ایک مقدمہ کے نتیجہ میں لاہور ہائی کورٹ نے اس کارروائی کو منظر ِ عام پر لانے کا حکم دیا۔ جب اس کارروائی کی اشاعت منظر ِ عام پر آئی تو اس بات کی ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے آ گئی کہ اس اشاعت کی وقت بھی جماعتِ احمدیہ کے مخالفین کا گروہ اس عمل پر اثر انداز ہو رہا تھااور اس گروہ کی کوشش تھی کہ مکمل حقائق سامنے نہ آئیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ

1۔جماعت ِ احمدیہ کا موقف ایک محضر نامہ پر مشتمل تھا ۔دو دن کی کارروائی میں حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ نے یہ موقف خود پڑھ کر سنایا تھا۔اس اشاعت میں یہ محضر نامہ جو جماعتِ احمدیہ کا اصل موقف تھا شامل نہیں کیا گیاحالانکہ یہ محضرنامہ کارروائی کا اہم حصہ تھا۔ اس کے برعکس جماعت کے مخالفین نے، جن میں مفتی محمود صاحب کا نام بھی شامل ہے جو اپنے مؤقف پر مشتمل طویل تقاریر کی تھیں وہ اس اشاعت میں شامل کی گئیں۔

2۔جماعتِ احمدیہ کے موقف کے طور پر محضر نامہ کے ضمیمے کے طور پر جو مضامین اور کتابچے جمع کرائے گئے تھے وہ اس اشاعت میں شامل نہیں کئے گئے اور جو ضمیمے مخالفین نے جمع کرائے تھے وہ اس اشاعت کا حصہ بنائے گئے۔

3 ۔بعض جگہوں کچھ نمایاں سرخیاں لگا کر خلاف ِ واقعہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مثلاََ اس اشاعت کے صفحہ 2360اور صفحہ 2384پر جماعت ِ احمدیہ کے مخالفین کی تقاریر کے تحریری ریکارڈ میں یہ ہیڈنگ لگائی گئی ہیں ”مرزا ناصر احمد صاحب سے“ اور نیچے کچھ سوالات درج ہیں ۔اور یہ تاثر پیش کیا گیا ہے کہ گویا حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ سے یہ سوالات کئے گئے تھے اور آپ نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تقاریر 30/اگست 1974ء کی کارروائی کی ہیں اور اس روز حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ یا جماعتِ احمدیہ کے وفد کا کوئی ممبر وہاں پر موجود ہی نہیں تھا اور نہ ہی یہ سوالات کبھی ان تک پہنچائے گئے۔ خدا جانے یہ سوالات کس سے کئے جارہے تھے ؟

4)۔ قومی اسمبلی کے قوانین میں یہ قاعدہ درج ہے کہ جب کمیٹی میں ایک گواہ کو سنا جاتا ہے۔

A verbatim record of the proceedings of the committee shall, when a witness is summoned to give evidence, be kept

لیکن ایسا نہ کیا گیا اوراس اشاعت میں بعض مقامات پر جہاں حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ نے حوالہ کے طور پر عربی عبارت پڑھی ہے وہاں اصل عبارت کی جگہ صرف ”عربی“ لکھنے پر اکتفا کی گئی ہے

               ان وجوہات کی بنا پر اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو اگر جماعتِ احمدیہ یا کسی بھی محقق کی طرف سے اس اشاعت کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر مسترد کیا جائے تو یہ ان کا حق ہے۔

کاروائی پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں