حامد میر کے ایک کالم کا جواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

(ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صا حب)

download Khutbat HAzrat Khalifatul Masih SalisDownload in pdf format

مورخہ 11 اپریل 2016کے روزنامہ جنگ میں مکرم حامد میر صاحب کا ایک مضمون ،” یہ آئین نہیں چلے گا ؟” کے عنوان سے شائع ہوا۔  اس  میں مختلف موضوعات پر اظہار ِ خیال کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ اس وقت  پاکستان کے آئین کو خطرہ ہے  اور مختلف گروہوں کی طرف سے خطرہ ہے ۔ سب سے پہلے تو وہ مذہبی انتہا پسندوں کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ اس آئین کے اس لیے خلاف ہیں  کیونکہ وہ آئین اور جمہوریت دونوں کو کفر سمجھتے ہیں۔پھر لبرل فاشسٹ  ہیں  وہ  آئین میں اسلام کے ذکر سے ہی الرجک ہیں ۔ پھر  ایک گروہ صدارتی  نظام کے حامیوں کا ہے ۔ ان کے علاوہ  کچھ بیرونی طاقتیں ہیں جو کہ  لبرل فاشسٹ گروہ کو  رقوم سے نواز کر  آئین کی اسلامی دفعات کو  متنازع بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اور  وہ کیا :۔کوششیں کر رہی ہیں، اس کے بارے میں  مکرم حامد میر صاحب تحریر فرماتے ہیں

” بیرونی طاقتوں کو سب سے زیادہ اعتراض آئین کی دفعہ 260پر ہے  جس میں مسلمان کی تعریف کی گئی  اور ختم ِ نبوت پر ایمان ضروری قرار دیا گیا  نیز قادیانیوں ( احمدی ) کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ معترضین یہ نہیں جانتے کہ یہ کام  قومی اسمبلی میں کئی دن کی بحث  اور جماعت ِ احمدیہ کےسربراہ  مرزا ناصر کا کئی دن موقف  سننے کے بعد کیا گیا ۔ اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے اپنی جرح میں  ان سے پوچھا  کہ آپ غیر احمدیوں کو کافر کیوں سمجھتے ہیں ؟ آپ لوگوں نے قائد ِ اعظم محمد علی جناح کی نماز ِ جنازہ کیوں نہ پڑھی ؟ مرزا ناصر احمد نے کہا کہ وہ شیعہ تھے اور  اور علامہ شبیر عثمانی نماز ِ جنازہ پڑھا رہے تھے  جو ہمیں کافر سمجھتے تھے ۔یحییٰ بختیار نے پوچھا  کہ آپ نے لیاقت علی خان کی نماز ِ جنازہ کیوں نہ پڑھی ؟ جرح کے دوران مرزا  غلام احمد کی کتابیں  سامنے  لائی گئیں  جن میں انہوں نے اپنے آپ کو نبی قرار دیا اور اپنی نبوت کے منکرین کو گالیاں  لکھیں اس بحث میں پیپلز پارٹی کے ایک وزیر محمد جعفر پیش پیش تھے ۔ انہوں نے قادیانی مسئلہ پر ایک کتاب بھی  تحریر کی تھی۔”

پھر وہ لکھتے ہیں”  مختصر یہ کہ آئین میں طے شدہ معاملات  پر دوبارہ بحث  کرنے کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔”

اب مندرجہ  بالا  نکات کا مختصر تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔ مکرم حامد میر صاحب  تحریر  فرماتے ہیں

” بیرونی طاقتوں کو سب سے زیادہ اعتراض آئین کی دفعہ 260پر ہے  جس میں مسلمان کی تعریف کی گئی  اور ختم ِ نبوت پر ایمان ضروری قرار دیا گیا  نیز قادیانیوں ( احمدی ) کو غیر مسلم قرار دیا گیا ۔”

یہ بات قابل ِ ذکر ہے کہ یہ دعویٰ کسی بیرونی طاقت کی طرف سے یا ہمارے  ملک کے سربراہ ِ حکومت یا وزیر ِ خارجہ   یا کسی وزیر یا کسی اور ذمہ دار عہدیدار کی طرف سے پیش نہیں کیا جا رہا ۔ بلکہ  روزنامہ جنگ کے ایک کالم میں یہ دلچسپ انکشاف کیا جا رہا ہے۔اور  بات کو عمدا                ََ تشنہ چھوڑا جا رہا ہے او یہ بھی بیان نہیں کیا جا رہا کہ  اس بات کا کیا ثبوت ہے  کہ  بیرونی طاقتیں پاکستان کے آئین میں تبدیلی کرنے کے لیے  دباؤ ڈال رہی ہیں۔کیونکہ  حامد میر صاحب کے الفاظ  تو صاف ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ ایک نہیں   ایک سے زیادہ بیرونی طاقتیں  ہیں جو اس غرض کے لیے پاکستان  پر  دباؤ ڈال رہی ہیں۔ اور انہیں   معمولی نہیں بلکہ شدید اعتراض اس  آئین کی اس دفعہ پر ہے ۔ اور  یہ بیچاری بیرونی طاقتیں بھی اس قسم  کی  بے بس طاقتیں ہیں  کہ ان  کی کچھ  نہیں چل  رہی  کیونکہ  آئین میں اس فرضی  تبدیلی کے لیے ہمیں کسی قسم   کی کوئی پیش رفت   کسی بھی سطح پرنظر نہیں آ رہی۔یہ ایک لازمی بات  ہے جب اس قسم کا  پُر اسرار دعویٰ پیش کیا جا  تا ہے تو یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اس دعویٰ کا  ثبوت کیا ہے؟ کیونکہ اس قسم کے دعاوی کو بغیر ثبوت کے تو کوئی تسلیم نہیں کر سکتا۔ مکرم حامد میر صاحب  نے اس قسم کے  سوال کا جواب  اس  مضمون میں پہلے ہی دے دیا تھا۔ وہ تحریر فرماتے ہیں

“ایک صحافی کے پاس اکثر ایسی معلومات آ جاتی ہیں   جنہیں  وہ کسی عدالت یا کمیشن کے سامنے  دستاویزی شہادتوں کے ساتھ  ثابت نہیں کر سکتا  لیکن اس کی معلومات کو صرف وقت اور آنے والے حالات ہی سچا ثابت کر تے ہیں۔”

اپنے دعوے کے حق میں حامد میر صاحب  صرف یہ ثبوت پیش کر سکے ہیں کہ  میں ایک صحافی ہوں اور صحافی کے پاس ایسی معلومات  آجاتی ہیں جن کا کوئی ثبوت اس کے پاس نہیں ہوتا ،  لہذاٰ میرے دعوے کو صحیح تسلیم کر لیا جائے  ۔ کوئی بھی ذی ہوش  اس منطق کو تسلیم نہیں کر سکتا ۔ ایک ہی وقت میں ایک مسئلہ کے بارے میں بیسیوں صحافی مختلف آراء کا اظہار  کرتے ہیں ۔ ان   تمام متضاد آراء کو   صحیح تسلیم  نہیں کیا جا سکتا۔لیکن  حامد میر صاحب   نے ایک اہم نکتہ ضرور بیان  کیا ہے اگر یہ معلومات صحیح ہوں  تو  آنے والا وقت  اور حالات خود ظاہر کر دیتے  ہیں کہ یہ دعاوی  درست   تھے کہ نہیں ۔ہم اس  سے بھی ایک قدم آگے جاتے ہیں ۔ جب بھی کوئی دعویٰ پیش کیا جاتا ہے  تو  یہ جائزہ  لینا چاہیے کہ   ماضی میں جو شواہد سامنے آ چکے ہیں  وہ اس کی تصدیق کر رہے ہیں یا تردید کر رہے ہیں۔

بیرونی طاقتوں کی مداخلت؟

حامد میر صاحب   نے  اپنے مضمون  میں  آئین کے آرٹیکل 260کی جس شق کا ذکر فرمایا ہے وہ 1974میں  دوسری آئینی ترمیم  کے نتیجہ میں آئین میں شامل کی گئی تھی۔ اس آئینی ترمیم  کو 7ستمبر 1974کو منظور کیا گیا تھا اور اس سے چند ماہ پہلے  ،مئی کے آخر سے پاکستان بھر میں  احمدیوں کے خلاف  فسادات ہو رہے تھے  اور  احمدیوں  کے خلاف اس  آئینی ترمیم کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ ملک بھر میں  احمدیوں کو شہید کیا جا رہا تھا ، ان کے گھروں اور  دوکانوں کو نذر ِ آتش کیا جا رہا تھا اور پورے ملک میں ان کے خلاف  نفرت بھڑکانے کی  مہم منظم انداز میں چلائی جا رہی تھی۔اس سوال کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ اس وقت کیا  بیرونی ہاتھ  اس آئینی ترمیم  رکوانے کے لیے کوشش کر رہے تھے  یا  اس ترمیم کو پاکستان پر مسلط کرنے کے لیے سازش میں ملوث تھے ۔

اس وقت ذوالفقار علی بھٹو صاحب  پاکستان کے وزیر ِ اعظم تھے۔ جب فسادات کے آغاز کو دو ہفتہ گذر گیا تو13جون کو وزیر ِ  اعظم نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کیا اور  جماعت ِ احمدیہ کے خلاف ان فسادات  کے بارے  جو کہا وہ روزنامہ ڈان  سے  حرف بحرف درج کیا جاتا ہے۔

“Mr. Bhutto said that , not only he himself but also  the people could see the foreign hand behind the anti-Ahmadiyya trouble in Pakistan. One could link it with the Indian nuclear blast, the visit  of Afghan President Daud in Moscow and the presence of a political leader of Pakistan in Kabul as state guest. All these events were not coincidental he said and added that these were a part of a chain of conspiracies which had been taking place against the solidarity and integrity of Pakistan.”

(Daily Dawn, June 14 1974 p 1)

ترجمہ :بھٹو صاحب نے کہا کہ نہ صرف وہ خود بلکہ  دوسرے لوگ بھی  دیکھ  رہے  ہیں کہ  پاکستان میں احمدیوں کے خلاف فسادات کے پیچھے بیرونی ہاتھ  کار فرما ہے۔ ان کا تعلق  بھارت کے ایٹمی دھماکے ، افغان صدر  داؤد کے دورہِ  ماسکو اور   کابل میں پاکستان  کے ایک  سیاستدان  کی   حکومتی مہمان کی حیثیث سے موجود گی  سے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام واقعات  اتفاقی نہیں ہیں  بلکہ یہ  واقعات پاکستان کی  یکجہتی  اور سالمیت   کے خلاف سازشوں   کے سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

بھٹو صاحب کا مندرجہ بالا  بیان بالکل واضح ہے۔ اس وقت  کے سربراہ  ِ حکومت  نے برملا اس  بات کا اعلان کیا تھا کہ  جماعت ِ احمدیہ کے خلاف1974میں چلائی جانے والی  مہم  کے پیچھے  ملک کے بیرونی دشمنوں کا ہاتھ کافرما تھا۔ اور  پاکستان کی سالمیت کے خلاف  سازشوں کا یہ سلسلہ بھارت کے ایٹمی دھماکے  سے شروع ہوا تھا۔ یہ بات دلچسپ  ہے کہ   اس وقت اپوزیشن کے لیڈروں نے  جن میں جماعت ِ احمدیہ کے اشد مخالفین   بھی شامل تھے ،  اس بیان کی تردید کرنے کی  ہمت نہیں کی تھی۔ جیساکہ حامد میر صاحب  نے ذکر کیا ہے  یہ معاملہ  کئی ہفتے تک قومی  اسمبلی  میں زیر بحث رہا۔ اس دوران بھی کسی ممبر اسمبلی نے وزیر اعظم کے اس دعوے  کی تردید  نہیں کی۔حقیقت  تو یہ ہے کہ بیرونی ہاتھ اس ترمیم کو آئین کا حصہ بنانے میں ملوث تھا اور اس  کا مقصد پاکستان کو  نقصان پہنچانا تھا۔ اور اس وقت کے وزیر ِ اعظم  نے خود اس بات کا اعتراف  کیا تھا۔

آئین میں طے شدہ معاملات  پھر چھیڑے نہیں جا سکتے؟

حامد میر صاحب نے اپنے مضمون  میں لکھا  ہے

” معترضین یہ نہیں جانتے کہ یہ کام  قومی اسمبلی میں کئی دن کی بحث  اور جماعت ِ احمدیہ  کےسربراہ  مرزا ناصر کا کئی دن موقف  سننے کے بعد کیا گیا ۔”

پھر وہ لکھتے ہیں

”  مختصر یہ کہ آئین میں طے شدہ معاملات  پر دوبارہ بحث  کرنے کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔”۔

اگر  اس جملے سے ان کی مراد یہ ہے کہ جو فیصلہ کئی دن کی بحث کے بعد ہو یا    بظاہرکسی فریق کا موقف سننے کے بعد وہ لازما ََ صحیح  اور منصفانہ ہوتا ہے اور پھر اس پر نہ تنقید کی جا سکتی ہے اور نہ ہی  اسے تبدیل  کیا جا سکتا ہے     تو یہ  دعویٰ بالکل غلط ہے۔تاریخ میں  ایسے  بے شمار فیصلوں کی مثالیں پیش کی جا سکتی  ہیں جنہیں بہت بحث مباحثے  کے بعد اور  بظاہر دوسرے فریق کا موقف سننے کے بعد کیا گیا مگر وقت نے ثابت کیا کہ  وہ فیصلے نہ تو صحیح تھے اور نہ منصفانہ تھے۔آئین  میں ہر ترمیم بحث و تمحیث  اور مختلف آراء سننے کے بعد ہی  کی جاتی ہے ۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ  نہیں نکالا جا سکتا کہ یہ ترمیم    بے عیب ہے یا اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔  پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 58 کی مثال   ہی لے لیں ۔ اس کا تعلق پارلیمنٹ کی برطرف کیے جانے  اور اس  ضمن میں صدر مملکت کے اختیارات سے ہے۔1973کے آئین میں  اسے  اس کی ابتدائی شکل  میں منظور کیا گیا۔ پھر 1985میں بڑی بحث  کے بعد اس میں متفقہ طور پر ایک تبدیلی کی گئی جو آئین کی آٹھویں ترمیم  کے نام سے معروف ہے۔پھر جب اس کے    ایسے نتائج ظاہر ہوئے  جو پارلیمنٹ کے نزدیک   نقصان دہ تھے تو 1997میں آئین   کی تیرہویں  ترمیم کے ذریعہ اسے پھر تبدیلی کیا گیا۔پھر 2003میں آئین کی  ترمیم نمبر 17کے ذریعہ  آئین کی شق58کو  ایک  اورمرتبہ تبدیل کیا گیا۔پھر2010میں  ایک بار پھر  اسے آئین کی اٹھارویں  ترمیم کے ذریعہ تبدیل کیا  گیا۔ ہر مرتبہ پارلیمنٹ کو اپنے سابقہ فیصلے میں کوئی سقم یا بہتری   کی گنجائش  نظر آئی  تھی ، تب ہی  اس شق  میں ترمیم  پر ترمیم  کی گئی ۔ پاکستان کی آئینی تاریخ  میں ایسی کئی مثالیں  موجود ہیں جو کہ  حامد میر صاحب کے مفروضے کو   غلط ثابت کر رہی ہیں۔

اس ترمیم کے اثرات کے بارے میں جماعت ِ احمدیہ کا موقف:

البتہ یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ اس   وقت جماعت ِ احمدیہ کی طرف سے   اس مجوزہ ترمیم  کے نتائج کے بارے میں  کیا موقف پیش کیا گیا تھا۔ اب جبکہ اس  واقعہ  کو کئی دہائیاں گذر چکی ہیں ہم یہ جائزہ لے سکتے ہیں کہ کیا  وہ موقف درست تھا کہ نہیں؟ جماعت  احمدیہ کے محضر نامہ میں جسے قومی اسمبلی کے سامنے پڑھ کر سنایا  گیا   لکھا ہے کہ اگر اسمبلی کے اس ترمیم کو منظور کیا تو   اس کے نتائج کی جو مختلف صورتیں سامنے آئیں گی وہ

”  بشمول پاکستان دنیا کے مختلف ممالک میں ان گنت فسادات  اور خرابیوں  کی راہ کھولنے کا موجب ہو جائیں گی۔”(محضرنامہ ص5)

اور اس محضرنامہ کے صفحہ 167پر ثبوت سمیت یہ انتباہ کیا گیا تھا کہ پاکستان  میں خون خرابہ کرانے کی ایک دیرینہ سازش چل رہی ہے ۔ اور  بڑی دیر سے اس بات کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں کہ  احمدیوں سے اس فساد کو شروع کیا جائے گا اور اس کے بعد   بعض دوسرے فرقوں کی باری آئے گی۔ اور ان میں سے بعض کو واجب التعزیر قرار دیا جائے اور بعض کو واجب القتل قرار دیا جائے گا۔اور علماء کا ایک گروہ برملا یہ کہہ رہا ہے کہ  فلاں فرقے کے تمام لوگ  واجب القتل ہیں لیکن ابھی یہ کہنے کا وقت   نہیں آیا جب موقع آیا تو دیکھا جائے گا۔ اور اس بات کا اظہار  کیا  جا رہا ہے  کہ ابھی اس کام کو ایک فرقے سے شروع کیا گیا ہے جب وقت آئے گا  تو دوسرے فرقوں کی خبر لی جائے گی۔

اس کے برعکس جب مفتی محمود صاحب اپنا موقف بیان کرنے کے لیے  کھڑے ہوئے تو انہوں نے جماعت ِ احمدیہ کے اس انتباہ کی تردید کی اور یہ دعویٰ پیش کیا کہ  جماعت ِ احمدیہ کے کے موقف میں اس معاملے میں غلط بیانی کی گئی ہے ورنہ  علماء تو  اس قسم کی حرکات کاسوچ  بھی  نہیں سکتے۔ اب اس واقعہ کو چالیس سے زیادہ سال گذر چکے ہیں۔یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ کس کا موقف صحیح ثابت ہوا۔وطن ِ عزیز میں جس طرح   منظم انداز  میں  ہزاروں افراد کا خون بہایا  گیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس سفاکی پر ان مجرموں کو آمادہ کس طرح کیا گیا؟ ان سب فسادات کی بنیاد  تکفیر کا جنون ہی تھا۔ اس سلسلہ میں بہت  سی تحقیقات سامنے آ چکی ہیں ۔  صرف ایک مثال پیش کی جاتی ہے۔ سلیم شہزاد صاحب کی کتاب INSIDE Al-QAEDA AND TALIBANمیں ایک باب “TAKFEER AND KHARUJ”اسی موضوع کے بارے میں ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے  دہشت گردوں نے اپنے زیر ِ اثر افراد کے ذہنوں میں یہ زہر گھولا کہ تمہارے ملک کی حکومت، فوج اور عوام کی اکثریت سب کافر ہو چکے ہیں اور ان کے نام نہاد نمایاں علماء نے  اس غرض کے لیے  باقاعدہ مہم چلائی۔ پھر اِن کو  بے دردی سے اپنے ہم وطنوں کا خون بہانے پر آمادہ کیا گیا۔ اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ نہ اقلیتیں محفوظ رہیں اور نہ اکثریت محفوظ رہی ۔ نہ مسجدیں محفوظ رہیں ، اور نہ قبریں محفوظ رہیں   اور نہ گرجے محفوظ رہے۔نہ خواص محفوظ رہے اور نہ عوام محفوظ رہے۔ نہ بچے محفوظ رہے اور نہ عورتیں محفوظ رہیں۔ وہ تکفیر کا جن جو1974میں بوتل سے  باہر نکالا گیا تھا اب کسی قیمت پر واپس جانے پر تیار نہیں ۔اس کے جو بھیانک نتائج  نکلے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔1974میں کی جانے والی دوسری آئینی ترمیم  کے جو نتائج نکلے وہ صرف  جماعت ِ احمدیہ تک محدود نہیں رہے  بلکہ پاکستان کی آئینی تاریخ لکھنے  والے  ماہرین اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس وقت تو بھٹو صاحب نے  یہ فیصلہ کر کے مذہبی جماعتوں کو ٹھنڈا  کر دیا لیکن اس کے  وہ نتائج نکلے جو کسی  کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھے۔ مکرم حامد خان صاحب لکھتے ہیں

“Bhutto and his government calmed the situation for the time being by acceding to the demand of the religious parties who had worked up a frenzy in the country but did not realize the long term  implications, legal as well constitutional, of this move.”

(Constitutional And Political History  of Pakistan, Oxford 2009, by Hamid Khan p399)

ترجمہ:  بھٹو صاحب اور ان کی حکومت نے  مذہبی جماعتوں کے مطالبات تسلیم کر کے وقتی طور پر ملک میں اس    ہذیان کو تو ٹھنڈا کر  دیا  لیکن  وہ اس بات کو سمجھ نہیں پائے کہ  قانونی  اور آئینی طور پر اس  کےکیا طویل المعیاد نتائج نکلیں گے۔

پیش کردہ حوالوں کی حقیقت:

1974میں قومی اسمبلی   میں ہونے والی بحث کے بارے  میں اپنے دعاوی  بیان کرنےسے قبل حامد میر صاحب    اپنے مضمون میں لکھتے ہیں

” جرح کے دوران مرزا  غلام احمد کی کتابیں  سامنے  لائی گئیں  ۔۔۔۔۔”

وہ یہ تاثر پیش کرنا چاہ رہے ہیں کہ قومی اسمبلی کی اس سپیشل کمیٹی میں جماعت ِ احمدیہ  پر جو الزامات لگائے گئے تھے  ان کی تائید میں بانی ِ سلسلہ احمدیہ  کی تحریروں سے حوالے پیش کر کے انہیں ثابت  کیا گیا تھا اور اس طرح انصاف کے تقاضے مکمل طور پر پورے کیے گئے تھے۔یہ بات صحیح ہے کہ اس کارروائی کے دوران کئی روز  جماعت ِ احمدیہ کے لٹریچر سے حوالے پیش کیے گئے تھے۔ سوال و جواب کے مرحلہ کے دوران جماعت ِ احمدیہ کا وفد وہاں پر موجود ہوتا تھا  اور ان حوالوں کو نوٹ کیا جاتا  اور کارروائی ختم ہونے پر چیک کیا جاتا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ ان میں حوالوں کی بڑی تعداد مسلسل  غلط نکلتی رہی تھی۔ایسے اخبارات کے حوالے دیئے گے  جو کبھی شائع ہی نہیں ہوئے تھے۔ ایسی کتابوں کے حوالے دیئے گئے جو کبھی لکھی ہی نہیں گئی تھیں ۔یا پھر  جب اصل متن چیک کیا گیا تو  معلوم ہوا کہ عبارت کو تبدیل کر کے ممبران ِ اسمبلی  کے سامنے پیش کیا گیا تھا ۔ایسے بہت سے حوالے  پیش کیے گئے جن کو جب مکمل طور پر  پڑھا گیا تو ان سے وہ نتیجہ نکل ہی نہیں سکتا تھا جو کہ نکالنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔درست حوالے  اس سپیشل کمیٹی کے سامنے  رکھے گئے اور باربار اٹارنی جنرل صاحب  اور ان   کی ٹیم کے لیے شرمندگی کا باعث بنتے رہے۔ اور تو اور اس طرح کے واقعات بھی ہوتے رہے کہ ایک مرتبہ حضرت بانی ِ سلسلہ احمدیہ کی کتاب سیرت الابدال کے صفحہ نمبر 193کا حوالہ پیش کر دیا گیا(کارروائی صفحہ 409)۔اور حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب صرف15صفحات کی ہے۔اس کا تجزیہ  صحیح حوالوں  سمیت  کتاب ” قومی اسمبلی 1974کی کارروائی پر تبصرہ” میں درج کردیئے گئے ہیں اور یہ کتاب نیٹ پر موجود ہے ۔ہر کوئی خود اس کا تجزیہ کر سکتا ہے۔جماعت ِ احمدیہ کے مخالفین  جو حوالے پیش کر رہے تھے  ان میں افراتفری کا عالم شروع ہی سے ظاہر ہو چکا تھا۔اٹارنی جنرل حوالے کی ایک عبارت  پڑھتے تھے  اور پھر جب اسے دکھانے کی باری آتی تھی تو  وہ حوالہ انہیں ملتا نہیں تھا۔ اس لیے  کارروائی کے دوسرے دن  ہی سپیکر صاحب  نے تاکید کی کہ حوالوں پر نشان لگا کر اٹارنی جنرل صاحب کے  پاس رکھے جائیں تا کہ  وہ انہیں پیش کر سکیں۔ اور کہا

“یہ طریقہ کار بالکل غلط ہے کہ  ایک حوالہ کو تلاش کرنے میں آدھا گھنٹہ لگتا ہے۔میں کل کا بھی یہی کہہ رہا ہوں۔۔۔” (کارروائی صفحہ 300)

اس سے اگلے روز  پیش کردہ حوالوں کا وہ حشر ہو چکا تھا کہ سپیکر صاحب کو یہ احساس ہو رہا تھا کہ ممبران ِ اسمبلی کو جماعت ِ احمدیہ کے وفد کے سامنے شرمندگی اُٹھانی پڑ رہی ہے انہوں نے  حوالے پیش کرنے والوں کی ٹیم سے کہا

“We should not cut a sorry figure before the members of the delegation. And these members should be here upto 6.00”(page 425 of the proceedings.)

ترجمہ : ہمیں وفد کے اراکین کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا چاہیے۔یہ اراکین چھ بجے پہنچنے والے ہوں گے۔

پھر کہا،”اگر آپ نے اپناworkدکھانا ہے تو  یہ نہیں ہے کہ ایک حوالہ تلاش کرتے ہی آدھا گھنٹہ لگ جائے۔۔۔کہ یہ ریفرنس نہیں ہے ، غلط دیا، یا کتاب ہی نہیں exist کرتی۔”(کارروائی صفحہ425)

کارروائی کے دوسرے روز تک ہی ممبران ِ اسمبلی کی  طرف سے پیش کیے گئے دلائل اور حوالوں کا وہ حشر ہو چکا تھا کہ ایک ممبر اسمبلی مکرم عبد الحمید جتوئی صاحب یہ کہنے پر مجبور ہو گئے۔

“جناب ِ چیئر مین ! ہمیں کل سے پتہ  لگا ہے  کہ ہم اس  ہاؤس میں جج بنے ہیں اور ہم فیصلہ کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں ہماری پوزیشن وہی ہے جیسے کہ کسی نان ایڈووکیٹ کو  ہائی کورٹ کا جج بنا دیا  جائے اور وہ فتویٰ دے۔۔۔”(کارروائی صفحہ 256)

ایک اور الزام کی حقیقت:

حامد میر صاحب  لکھتے ہیں کہ

” اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے اپنی جرح میں  ان سے پوچھا  کہ آپ غیر احمدیوں کو کافر کیوں سمجھتے ہیں ؟”

بالعموم  لوگوں کو جماعت ِ احمدیہ کے خلاف اشتعال  دلانے کے لیے یہ گھسا پٹا طریقہ  استعمال کیا جاتا ہے کہ اس کارروائی کے دوران  جماعت ِ احمدیہ کے وفد  نے یہ موقف پیش کیا تھا  کہ ہم غیر احمدی مسلمانوں کو غیر مسلم اور ملت ِ اسلامیہ سے خارج سمجھتے ہیں ۔حامد میر صاحب  بھی یہ الزام لگاتے ہوئے  جزوی حقائق  پیش کر رہے ہیں اور مکمل بات نہیں لکھ رہے۔جب شائع کردہ کارروائی کا مکمل مطالعہ کیا جاتا ہے تو بالکل ایک اور صورت سامنے آتی ہے۔ ہم  یہ حوالے قومی اسمبلی  کی شائع کردہ کارروائی سے صفحہ نمبر سمیت درج کر رہے ہیں۔یہ کارروائی کس حد تک صحیح محفوظ  رکھی گئی  اور صحیح شائع کی گئی  اللہ بہتر جانتا ہے ۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ   اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال اُ ٹھایا  تھا کہ اگر ایک شخص دیانتداری سے بانی ِ سلسلہ احمدیہ کے دعاوی  کو تسلیم نہیں کرتا اور  انکار کرتا ہے تو اسے آپ کیا سمجھیں گے۔مگر جس بات کو حامد میر صاحب بیان  نہیں کر رہے وہ یہ  ہےکہ اس کے جواب میں   حضرت امام جماعت ِ احمدیہ نے  فرمایا تھا

” ملت ِ اسلامیہ کے لحاظ سے وہ کافر نہیں مسلمان کہلائے گا۔”

پھر فرمایا کہ ایسا شخص

“ملت ِ اسلامیہ کا فرد سمجھا جائے گا۔”(کارروائی صفحہ 305)

ایک اور موقع پر اٹارنی جنرل صاحب نے  کہا کہ جماعت ِ احمدیہ کے مخالفین یہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں یعنی  پھرآپ انہیں کیا سمجھتے ہیں؟ اس  پر حضرت امام جماعت ِ احمدیہ نے فرمایا

“تو وہ مسلمان ہیں ۔ میں بھی مسلمان کہتا ہوں ۔”(کارروائی 457)

اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال ایک بار پھر 8اگست کو اُٹھایا اور حضرت امام جماعت ِ احمدیہ سے ان لوگوں کے بارے میں  سوال کیا جو مسلمان ہیں مگر بانی ِ سلسلہ احمدیہ کا انکار کرتے ہیں۔ اس پر  شائع شدہ کارروائی میں حضرت امام جماعت ِ احمدیہ کا  ان لوگوں کے بارے میں یہ جواب درج ہے

“ملت ِ اسلامیہ میں ہیں۔اور غیر مسلم ان کو  نہیں کہا جا سکتا۔”(کارروائی 611)

اس پر بھی اٹارنی جنرل صاحب کی تسلی نہیں ہوئی اور وہ یہ سوال بار بار دہراتے رہے ۔ ایک بار پھر انہوں نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا جو مسلمان ہیں لیکن حضرت بانی ِ سلسلہ احمدیہ کے دعاوی کا انکار کرتے ہیں۔ایک بار پھر حضرت  مرزا ناصر احمد صاحب ؒ نے فرمایا

“ہاں “ملت ِ اسلامیہ سے باہر ان کو  کہا ہی  نہیں جا سکتا  ایک سیکنڈ کے لیے بھی۔”(کارروائی 614)

اٹارنی جنرل صاحب اپنی مرضی کا جواب نکلوانے کے لیے  بار بار عجیب  بھونڈی سی کوششیں کر رہے تھے۔ انہوں نے پھر یہی سوال دہرایا کہ وہ لوگ جو کہ مسلمان ہیں لیکن حضرت بانی ِ سلسلہ احمدیہ کے دعاوی کا انکار کرتے ہیں کہا وہ ملت ِ اسلامیہ میں ہیں۔ اس پر حضرت امام جماعت ِ احمدیہ  نے جواب دیا

“ہاں وہ ہیں ، بالکل۔”(کارروائی 619)

یہ کارروائی انٹر نیٹ پر موجود ہے ہر کوئی اپنی تسلی کے لیے دیکھ سکتا ہے ۔ اس پس منظر میں حامد میر صاحب کے  لگائے گئے الزام کی تردید خود بخود ہو جاتی ہے۔