Category Archives: Uncategorized

تاریخی حقائق اور ذہنی افیون میں فرق

تاریخی حقائق اور ذہنی افیون میں فرق

ڈاکٹر مرزا سلطان احمد

Download as PDF

ترقی کرنے والی قومیں اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرتی ہیں اور تنزل کا شکار اقوام ہمیشہ اپنی غلطیوں کا الزام دوسروں کے سر تھوپ کر اپنی ذہنی تسلی کا سامان پیدا کرتی ہیں اور کوئی سبق حاصل نہیں کرتیں۔ مورخہ 2 دسمبر 2018کے روزنامہ نوائے وقت میں مکرم ظفر علی راجہ صاحب کا ایک کالم ‘ شمشیر ِ بےزنہار ۔ علامہ مشرقی اور قائد ِ اعظم ‘کے نام سے شائع ہوا۔ اس کالم میں فریدہ جبین سعدی صاحبہ کی کتاب ‘شمشیر ِ بے زنہار ‘ کے بعض حصوں کو درج کیا گیا ہے۔ اس کالم کا عنوان دیکھ کر گماں گذرتا ہے کہ شاید علامہ مشرقی اور قائد ِ اعظم محمد علی جناح کی سیاست اور آپس کے تعلقات کے متعلق کچھ لکھا ہوگا۔ لیکن بد نصیبی سے کچھ احباب کا کالم یا کتاب مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ ‘ قادیانیوں’ کو کسی نہ کسی چیز کا الزام نہ دے دیں ۔ یقینی طور پر پاکستان بننے کے بعد سب سے بڑ ا سانحہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی تھی ۔ اس کالم میں اس سانحہ کا ذمہ دار ‘ قادیانیوں ‘ کو خاص طور پر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ، ڈاکٹر عبد السلام ، اور ایم ایم احمد کو ٹھہرایا گیا ہے۔ اور اس باسی دال میں یہ لکھ کر ‘تڑکا’ لگایا گیا ہے کہ قادیانی یہ سب کچھ اسرائیل کے اشارے پر کر رہے تھے۔ اور اس کا ثبوت کیا دیا گیا ہے؟ فریدہ جبیں سعدی صاحبہ نے اپنی کتاب میں لکھ دیا اور ہم اتنے بھولے کہ یقین کر بیٹھے۔

ظفر علی راجہ صاحب نے شاید یہ سنسنی خیز انکشاف اب پڑھا ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ الزام  1974 میں قومی اسمبلی کی اس سپیشل کمیٹی میں بھی لگایا گیا تھا جس میں جماعتِ احمدیہ کے متعلق کارروائی ہو رہی تھی۔ اور الزام لگانے والے پاکستان کے اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار صاحب تھے۔ 7 اگست 1974 کی کارروائی کے دوران انہوں نے یہ الزام لگایا اور دلیل کے طور پر ایک انگریزی جریدہ کا طویل حوالہ پڑھنا شروع کیا۔ جریدہ کا نام  Impactتھا اور یہ 27جون 1974 کا حوالہ تھا۔ امام جماعت ِ احمدیہ نے اس حوالے کے بارے میں سوال کیا “Who is the writer?”یعنی اس تحریر کو لکھنے والا کون ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کمال قول سدید سے فرمایا “I really do not know.” یعنی حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے۔ اگلا سوال کیا گیا۔ ‘What is the standing of this publication’  یعنی اس جریدہ کی حیثیت کیا ہے؟چونکہ یہ ایک غیر معروف نام تھا اس لیے اس سوال کی ضرورت پیش آئی۔ اس سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل صاحب ایک بار پھر نہایت بے نفسی سے فرمایا May be nothing at all, Sir یعنی جناب شاید اس کی وقعت کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ تھا وہ عظیم ثبوت جو کہ اٹارنی جنرل صاحب قومی اسمبلی کے روبرو پیش فرما رہے تھے۔

)Proceedings of the special Committee of the whole House Held In Camera To Consider The Qadiani Issue. 7th August 1974. p364-370(

شاید اٹارنی جنرل صاحب کا خیال تھا کہ جو چیز انگریزی میں لکھی ہو ضرور درست ہوتی ہے۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ ظفر علی راجہ صاحب کا خیال ہے جو الزام کسی کتاب میں چھپ جائے وہ ضرور صحیح ہوتا ہے۔ لیکن ہم ایک بات سمجھنے سے قاصر ہیں کیا اب ظفر علی راجہ صاحب اور 1974 میں یحییٰ بختیار صاحب یہ نہیں جانتے کہ ابھی مشرقی پاکستان میں شکست کو ایک ماہ بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک کمیشن قائم کیا گیا تاکہ وہ اس سانحہ کے ذمہ دار افراد کا تعین کرے۔ اس کمیشن کی سربراہی پاکستان کے چیف جسٹس جناب جسٹس حمود الرحمن صاحب کر رہے تھے۔ اس کمیشن نے تمام واقعات کی تحقیق کر کے 8جولائی 1972 کو اپنی رپورٹ حکومت کے حوالے کر دی تھی ۔ یعنی اسمبلی کی اس کمیٹی کے کام شروع کرنے سے دو سال قبل حکومت کے پاس یہ رپورٹ پہنچ چکی تھی کہ سانحہ مشرقی پاکستان کا ذمہ دار کون تھا۔ اور اٹارنی جنرل صاحب جس حکومت کی نمائندگی کر رہے تھے وہ بخوبی جانتی تھی کہ مجرم کون کون تھا؟مگر حکومت نے اس وقت یہ رپورٹ شائع نہیں کی اور اسمبلی میں جماعت ِ احمدیہ پر الزام لگا دیا ۔

اب ہم رپورٹ کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا اس میں یہ لکھا ہے کہ احمدی اس ملک کو دو لخت کرنے کے ذمہ دار تھے؟ ہرگز نہیں ۔ اس رپورٹ میں کہیں جماعت ِ احمدیہ پر یہ مضحکہ خیز الزام نہیں لگایا گیا۔ اس رپورٹ میں اس سانحہ کا سب سے زیادہ ذمہ دار اس وقت کی حکومت ِ پاکستان اور افواجِ پاکستان کے سربراہ جنرل یحییٰ خان صاحب اور ان کے ساتھی جرنیلوں کو قرار دیا تھا۔ اور مغربی پاکستان کے سیاستدانوں پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ ہماری ظفر علی راجہ صاحب سے گذارش ہے کہ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کے آخر میں ان لوگوں کی فہرست ہے جو اس سانحہ کے ذمہ دار تھے۔ ان میں سے ایک بھی احمدی نہیں تھا۔ اس رپورٹ کی اشاعت سے یہ ثابت ہو گیا تھا کہ یہ الزام غلط تھا۔ البتہ اس وقت فوج میں اور سویلین عہدوں پر بعض احمدی ضرور موجود تھے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کے بارے میں اس رپورٹ میں کیا لکھا ہوا ہے۔

جماعت ِ احمدیہ سے تعلق رکھنے والے جنرل یعنی میجر جنرل افتخار خان جنجوعہ صاحب کا تعلق تھا تو یہ پاکستان کی تاریخ کے واحد جنرل تھے جنہوں نے دورانِ جنگ 9 دسمبر 1971 کو چھمب کے محاز پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کے سوا کسی اور جرنیل کو یہ سعادت نصیب نہیں ہوئی۔ اس رپورٹ سے یہ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اس جنگ کے دوران ان میں سے اکثر اس سعادت کے لیے مشتاق بھی نہیں تھے۔ حمود الرحمن رپورٹ میں جہاں باقی اکثر جرنیلوں پر شدید تنقید کی گئی ہے اور انہیں مجرم قرار دیا گیا ہے وہاں میجر جنرل افتخار جنجوعہ شہید کے متعلق اس رپورٹ میں  capable and bold commander A کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اور کسی جرنیل کے متعلق یہ الفاظ استعمال نہیں کیے گئے۔ ہاں ان کی کارکردگی کا بھی ناقدانہ جائزہ لیا گیا ہے۔ باقی جرنیلوں پر یہ تنقید کی گئی کہ وہ لڑنے کے لیے تیار ہی نہیں تھے انہوں نے موجود وسائل کا بھی صحیح استعمال نہیں کیا، اپنے فرائض چھوڑ کر چلے گئے وہاں جنرل افتخار جنجوعہ شہید پر یہ تبصرہ کیا گیا کہ انہیں جس علاقہ پر قبضہ کرنے کا کہا گیا تھا وہ اس سے زیادہ علاقہ پر قبضہ کرنے کے لیے کوشاں تھے اور جی ایچ کیو کو چاہئے تھا کہ انہیں اس سے روکتا اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے بجائے علاقہ دشمن کے حوالہ کرنے کے دشمن کے علاقہ پر قبضہ کیا تھا۔ اور اسی کوشش میں آپ نے اپنی جان بھی قربان کر دی۔)

)Hammodur Rahman commission Report, Published by Vanguard company, P214.215(

اور سویلین شعبہ میں اُس وقت ایک احمدی ایم ایم احمد بطور سیکریٹری خزانہ موجود تھے۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ ملک ٹوٹنے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اُ س وقت پاکستان کی حکومت اور مغربی پاکستان کے سیاستدان عوامی لیگ کے چھ نکات تسلیم کرنے اور انہیں اقتدار حوالے کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اس وقت جو مذاکرات ہو رہے تھے اس میں عوامی لیگ کی طرف سے بنگلہ دیش کے پہلے وزیر ِ قانون کمال حسین صاحب بھی شامل تھے ۔ انہوں نے بیان کیا ہے کہ بھٹو صاحب نے اور حکومت نے مالی معاملات میں عوامی لیگ کے بعض مطالبات ماننے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ اس سمت میں واحد پیش رفت اُس وقت ہوئی جب ایم ایم احمد ایک دن کے لئے مذاکرات میں شامل ہوئے۔ انہوں نے شروع میں ہی کہا کہ معمولی ردو بدل کے ساتھ مالی معاملات میں عوامی لیگ کے مطالبات تسلیم کئے جا سکتے ہیں۔ اور ہمیں کچھ نکات لکھ کر دیئے اور جن معاملات میں مذاکرات رُکے ہوئے تھے ان میں بھی لچک کا مظاہرہ کیا۔ اور ہم نے ان کے نوٹس کے مطابق تجاویز تیار بھی کر لی تھیں ۔ کہ مذاکرات روک کر فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا ۔ اور حقیقت یہ تھی کہ ایم ایم احمد کو اسی دن مذاکرات روک کر مغربی پاکستان واپس بھجوا کر فوجی آپریشن شروع کرا دیا گیا تھا۔ اس طرح مفاہمت کا یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل گیا۔

)Bangladesh Quest for Freedom and Justice, by Kamal Hossain, published by Oxford University Press 2013, p101-102(

بحیثیث قوم ہم پاکستانیوں نے کچھ سنگین غلطیاں کیں جن کا نتیجہ سانحہ مشرقی پاکستان کی صورت میں نکلا ۔ ہمیں کبھی یہود اور کبھی کسی اور کو الزام دینے کی بجائے اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اور تمام مصنفین اور کالم نگاروں سے عاجزانہ گذارش ہے کہ آپ کی رائے کچھ بھی ہو قوم کے سامنے حقائق رکھیں انہیں ذہنی افیون نہ پیش کریں۔

 

اعتزاز احسن صاحب کے ایک انٹرویو پر تبصرہ

اعتزاز احسن صاحب کے ایک انٹرویو  پر تبصرہ

(ڈاکٹر مرزا سلطان احمد)

Download PDF

روزنامہ پاکستان  لاہور 3نومبر  2018میں مکرم خالد ہمایوں صاحب کا ایک   کالم ‘ بے معنی سوالات ‘ کے نام سے شائع ہوا۔  اس میں انہوں نے  عارف میاں صاحب کی کتاب  ‘پاکستان ، آئین اور عدلیہ ‘ کے بعض حصوں پر  اظہار ِ ناپسندیدگی  فرمایا  ہے۔ خاکسار کی ان گذارشات کا مقصد  مکرم عارف میاں صاحب کی کتاب پر تبصرہ کرنا نہیں ہے لیکن  خالد ہمایوں صاحب نے اس  کالم میں اس کتاب  کے صفحہ 105اور 106سے ایک اقتباس درج  کیا ہے۔ اس   اقتباس  میں موجود بعض واضح تاریخی غلطیاں   ایسی  ہیں جن کے متعلق حقائق پیش کرنا ضروری ہے ۔  وہ اس کتاب میں مکرم اعتزاز احسن صاحب    کے   انٹرویو کا ایک  حصہ  ان الفاظ میں درج کرتے ہیں کہ جب عارف میاں صاحب نے اعتزاز احسن صاحب سے  دوسری آئینی ترمیم کے بارے میں سوال کیا[ یعنی اس ترمیم کے بارے  میں سوال کیا جس میں  احمدیوں کو غیر مسلم  اقلیت قرار دیا تھا] تو اعتزاز احسن صاحب نے  کہا :

” یحیٰ بختیار[جو اس وقت اٹارنی جنرل تھے ] بتاتے  ہوتے تھے  کہ شاید آئینی ترمیم نہ آتی ۔ جب  جرح کر رہے تھے  تو امیر جماعت ِ احمدیہ مرزا طاہر نے  اس سوال پر کہ حلفیہ بتائیں  جو جماعت ِ احمدیہ میں نہیں ہیں آپ انہیں  آپ انہیں مسلمان سمجھتے ہیں  یا نہیں؟ مرزا طاہر نے   قومی اسمبلی کے سامنے نفی میں جواب دیا ، جس پر قومی اسمبلی کے  ممبران میں ہیجان پیدا ہوا۔اس وجہ سے یہ ترمیم کی گئی۔۔۔”

مکرم اعتزاز احسن صاحب  ایک ذمہ دار شخصیت ہیں اور ملک کے وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ جو بھی رائے رکھیں یہ اُن کا حق ہے لیکن کم از کم ان سے یہ توقع تھی کہ وہ  کوئی انٹرویو دیتے ہوئے   غلط تاریخی حقائق بیان نہیں کریں گے۔ لیکن ان چند سطروں میں  اتنی زیادہ  غلطیاں کی گئی ہیں کہ شاید  اس سے زیادہ غلطیاں چند سطروں میں نہ سما سکتیں۔اگر  انہوں نے یہی فرمایا تھا تو اس کے بارے میں یہ عرض ہے

1۔قومی اسمبلی کی یہ سپیشل کمیٹی کی کارروائی1974میں ہوئی تھی اور   اُ س وقت مرزا طاہر احمد صاحب   امام جماعت ِ احمدیہ   نہیں تھے ۔ اُس  کارروائی کے دوران  تقریباًتمام سوالات کے جوابات  امام جماعت ِ احمدیہ مرزا ناصر احمد صاحب   نے دیئے تھے۔

2۔ شاید یہ سوال اُٹھایا جائے کہ  مرزا طاہر احمد صاحب   اُس وقت  جماعت ِ احمدیہ کے امام نہیں تھے  لیکن وہ جماعت ِ احمدیہ کے اُس وفد میں شامل تھے   جس نے قومی اسمبلی میں جماعت ِ احمدیہ کا موقف پیش کیا تھا اور شاید اسی  حیثیث میں انہوں نے یہ جواب دیا ہو۔ تو اس بارے میں عرض ہے  کہ  اب کئی  سال  سے یہ تمام کارروائی شائع ہو چکی ہے۔ اور   پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں ہی  قومی اسمبلی کی طرف سے یہ کارروائی شائع  کی گئی تھی ۔یہ کارروائی  Proceedings of the Special Committee of the Whole House  Held in Camera to Consider Qadiani Issue.کے نام سے شائع ہوئی ہے۔اس کے صفحہ نمبر1سے 1508تک  جماعت ِ احمدیہ کے وفد سے کئے جانے والے سوالات اور ان کے جوابات درج ہیں۔ یہ کارروائی  گواہ ہے کہ اس دوارن کسی ایک سوال کا جواب صاحبزادہ   مرزا طاہر احمد صاحب  نے نہیں دیا تھا ۔اس طرح یہ دعویٰ    بالکل غلط  ثابت ہوجاتا ہے۔

جہاں تک اعتزاز احسن صاحب   کے اس  دعوے کا تعلق ہے تو  اس کی تردید کے لئے یہ دو نکات ہی کافی ہیں  جن  کو  اوپر بیان کیا گیا ہے۔ لیکن اعتراض اُٹھانے والوں سے تمام رعایت  کرتے ہوئے ، اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ  جب  یحییٰ  بختیار  صاحب  نے جماعت ِ احمدیہ  کے  وفد   سے اس قسم  سوالات کئے تو  ان کا جواب کیا  دیا گیا تھا۔اب اس بارے میں  مکمل حوالوں کے ساتھ  حقائق پیش کئے جاتے ہیں۔

یحییٰ بختیار صاحب نے 7اگست 1974کو امام جماعت ِ احمدیہ سے سوال کیا کہ اگر ایک شخص بانی سلسلہ احمدیہ کے دعاوی کو تسلیم نہیں کرتا اس کو آپ کیا سمجھتے ہیں۔ قومی اسمبلی کی طرف سے جو کارروائی شائع کی گئی ہے ، اس کے مطابق امام جماعت ِ احمدیہ نے یہ جواب دیا :

“جو شخص حضرت مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتا لیکن وہ نبی ِ اکرم ﷺ حضرت خاتم الانبیاء کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے اس کو کوئی شخص غیر مسلم کہہ ہی نہیں سکتا۔”

اتنے واضح جواب کے بعد بھی یحییٰ بختیار صاحب نے یہ سوال دہرایا تو  امام جماعت ِ احمدیہ نے پھر یہ واضح جواب دیا :

“میں تو یہ کہہ رہا ہوں Categoricallyہر شخص جو محمد ﷺ کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے وہ مسلمان ہے۔۔۔۔۔اور کسی دوسرے کو اس کا حق نہیں ہے کہ اس کو غیر مسلم قرار دے۔”(کارروائی صفحہ406)

6اگست کو ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا:

“جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے وہ مسلمان ہے۔”(کاررروائی صفحہ 240(

اس کالم کے مطابق  اعتزاز احسن صاحب  نے جس جواب کا ذکر کیا ہے کہ اُس کے بعد ممبران اسمبلی  میں ہیجان پیدا ہوا تھا، وہ جواب تو  پوری کارروائی میں نہیں پایا جاتا۔ جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے  تو اس قسم کا ہیجان 6 اگست کی کارروائی  کے دوران اُس وقت پیدا ہوا تھا جب  قومی اسمبلی   میں کچھ فتاویٰ پڑھے گئے جن میں  مختلف فرقوں کے علماء نے ایک دوسرے  کو  کافر قرار دیا تھا ۔ چونکہ اس وقت پاکستان نازک حالات سے گذر رہا ہے ، اس لئے  ان فتووں کے تفاصیل بیان  کرنا مناسب نہیں ہو گا۔لیکن یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ مفتی محمود صاحب ان فتاویٰ کو بار بار سامنے آنے سے روکنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اس صورت ِ حال سے گھبرا کر کہا :

“مسلمانوں کے فرقوں کے درمیان جو تکفیر کا مسئلہ تھا وہ [یعنی  امام  جماعت ِ احمدیہ ]ساری عبارتیں پڑھتا گیا ۔ وہ بالکل سوال سے متعلق بات نہیں تھی۔ تو وہ جو سوال سے بالکل غیر متعلق کوئی بات کہتے ہیں تو اس کو کم از روکنا چاہیے۔۔۔”

(کارروائی صفحہ 253)

لیکن اس موضوع پر بات خطرناک ہو سکتی تھی ۔ اس لیے سپیکر صاحب نے انہیں بات مکمل نہیں کرنے دی۔ اور جو کچھ انہوں نے کہا اس سے صرف ان کی بے بسی ظاہر ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا:

“میں کیا کروں جی ؟ ۔۔۔ان کو روکیں نہ جی ۔”(کارووائی صفحہ 255)

ایک ممبر غلام رسول تارڑ صاحب نے کہا:

” جناب ِ اٹارنی جنرل صاحب کی خدمت میں عرض کروں گا کہ جو فتوے پڑھے گئے ہیں۔مرزا صاحب نے پڑھے ہیں فتوے ان کی تردید علماء ِ دین جو کی ہوئی ہے وہ اگر کسی ان ممبران یا مولانا صاحب کے پاس ہو تو ان کی بابت چونکہ تسلی کرنی چاہیے، اگر تردید ہے تو یہاں جو بیان ہوا ہے اس کا اثر کچھ اچھا نہیں ہو گا۔۔۔”( کارروائی صفحہ257)

یقینی طور پر  اعتزاز احسن صاحب  کے علم میں ہو گا کہ  یہ کارروائی   کئی سال سے شائع ہو چکی ہے ۔اس اشاعت  میں درج جوابات  تو اس دعوے کی  تردید کر رہے ہیں  جو کہ انہوں نے اپنے انٹرویو   میں بیان کی ہے۔ اور جیسا کہ   حوالے پیش کئے گئےہیں بالکل بر عکس منظر  پیش کر رہے ہیں۔ کم از کم ذمہ داری کا تقاضہ تو یہ تھا کہ اعتزاز احسن صاحب  زبانی گفتگو  کا حوالہ دینے کی بجائے  اس اشاعت  کا حوالہ دیتے۔اس سے تو یہی ظاہر  ہوتا  ہے کہ   اُس وقت اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار صاحب  نے اپنی پارٹی کے ساتھیوں  کے سامنے جو دعوے پیش کئے تھے وہ غلط تھے۔پڑھنے والوں کے سامنے ایک سوال رکھ کر  خاکسار یہ گذارشات ختم کرتا ہے  ۔ آخر یحییٰ بختیار صاحب  اس بات پر کیوں مجبور ہوئے کہ  وہ اس کارروائی  کے بارے میں غلط بیانی سے  کام لیں؟

 

 

کیا اسرائیل احمدیوں کے تعاون سے بنا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیا اسرائیل احمدیوں کے تعاون سے بناتھا؟

(ڈاکٹر مرزا سلطان احمد)

Download as PDF

روزنامہ پاکستان لاہور 17ستمبر 2018میں  ڈاکٹر شہزاد صاحب کا ایک مضمون  ‘مسئلہ احمدیت :کیا یہ صرف مذہبی مسئلہ ہے؟’ کے نام سے شائع ہوا۔  اس میں جماعت ِ احمدیہ پر بہت  سے الزامات   لگائے گئے ہیں۔   ان الزامات میں ایک الزام  انہی کے الفاظ میں درج کیا جاتا ہے۔

“ستر سال بعد  جب متحدہ ہندوستان کا بٹوارہ ہونے لگا تو مرزا کے احمدی پیروکاروں نے  بطور جماعت انگریز سرکار سے یہ کہہ کر  خود کو مسلمانوں سے الگ کر لیا کہ “ہم ایک الگ وجود رکھتے ہیں اور یہ کہ جن لوگوں کو تم مسلمان کے طور پر گن گن کر  ضلعی تقسیمیں  کر رہے ہو وہ ‘مسلمان’ اور ہیں اور اصل مسلمان ہم ہیں۔ہمیں  ان لوگوں میں نہ گنا جائے۔”

اس کے جواب میں خاکسار کا ایک مضمون 20 ستمبر کو   روزنامہ پاکستان  میں اور ‘ہم سب ‘ پر شائع ہوا اور اس میں خاکسار نے عرض کی تھی  کہ  ایک عرصہ سے باؤنڈری کمیشن کی کارروائی شائع ہو چکی ہے ۔ اور اس کمیشن کے روبرو  جماعت کا موقف بھی شائع ہو چکا ہے۔ جو موقف آپ نے جماعت ِ احمدیہ   کی طرف منسوب کیا ہے وہ  اس شائع شدہ کارروائی میں کہیں نہیں پایا جاتا۔ براہ  مہربانی  یہ فرمائیں کہ جو  بات آپ نے  جماعت ِ احمدیہ  کی طرف منسوب فرمائی ہے وہ کس صفحہ  پر ہے۔ اس کے جواب میں روزنامہ پاکستان 24 ستمبر میں اُن  کا ایک طویل مضمون شائع ہوا۔ اور معلوم ہوتا تھا کہ ناراضگی کی کیفیت میں تحریر فرمایا ہے۔اس پہلو سے اس مضمون کے کچھ پہلو ملاحظہ ہوں  [1] وہ اپنے دعوے کا حوالہ پیش نہیں کر سکے [2]  انہوں نے تحریر فرمایا”سب جانتے ہیں کہ اخبارات میں  کتابوں کے حوالے اور اقتباس دینے کا عمل  بڑی حد تک ناروا  تکلف ہوتا ہے”۔[3]  پھر وہ لکھتے ہیں”یہ ان کا میرے اوپر قرض ہے ۔ جس پر میں بھر پور انداز  میں لکھ کر ان کی خدمت میں پیش کروں گا “[4] پھر بالکل  اُلٹ موقف ان الفاظ میں پیش فرمایا” اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا  کہ تقسیم ِ ہند کے وقت انہوں نے کیا کہا تھا۔” مکرم ڈاکٹر شہزاد صاحب  نے خود  ایک  دعویٰ کیا ۔ اور جب حوالہ مانگا گیا تو تحریر فرمایا کہ  حوالے دینے کا عمل تو اخبارات میں ناروا عمل سمجھا جاتا ہے۔ اور   فرمانے لگے آخر اس سے فرق  ہی کیا پڑتا ہے؟  عرض ہے کہ  جو کارروائی شائع ہوئی ہے اس کی  پہلی جلد کے صفحہ 428سے 449پر جماعت ِ احمدیہ کا موقف شائع ہوا ہے ۔ آپ ناراض ہونے  کی بجائے  ہمیں یہ بتا دیں کہ باؤنڈری کمیشن کے روبرو  جو  موقف آپ نے  جماعت ِ احمدیہ کی  طرف منسوب کیا ہے وہ کس صفحہ نمبر پر موجود ہے؟ اور آپ کو مزید تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں ۔آپ کے جس دعوے کو  چیلنج کیا گیا تھا ، آپ اُس کا ثبوت تو دے  نہیں سکے ، اس کی جگہ ایک اور غلط  دعویٰ پیش کر دیا  کہ  جماعت ِ احمدیہ کےچینل   MTA3کی عربی نشریات اسرائیل سے ہو رہی ہیں۔ بہت افسوس سے عرض کرنا پڑ رہا ہے کہ آپ  کا یہ دعویٰ مکمل  طور پر غلط ہے ۔ یہ نشریات لندن سے ہو رہی ہیں  اور آپ کی مزید تسلی کے لئے  ہم لنک درج کردیتے ہیں جس پر  آپ کو اس چینل کی satellitesکی بھی تفصیلات مل جائیں گی[http://www.mta.tv/satellite-info]۔اور  اگر MTAکے باقی چینل  لندن سے پروگرام  نشر کر رہے ہیں  تو یہ بات  خلاف ِ عقل ہے کہ صرف عربی  نشریات کے لئے  اسرائیل کا رُخ کیا جائے اور وہاں نیا سیٹ اپ  بنایا جائے۔ اور آج کل انٹرنیٹ پر یہ تمام تفصیلات  آسانی  سے چیک کی جا سکتی ہیں۔ اور اس زمانے میں  یہ پتہ چلانا  ہر گز مشکل نہیں کہ کون سا چینل اپنی نشریات کہاں سے  نشر کر رہا ہے۔

ان دونوں  مضامین میں ڈاکٹر شہزاد صاحب   نے اسرائیل بننے کی سازش کا ذکر کیا ہے  اور پھر یہ دعویٰ کیا ہے  کہ خدانخواستہ  جماعت ِ احمدیہ ان کے الفاظ میں ‘یہود و نصاریٰ ‘ کی مدد سے چل رہی ہے۔ مناسب ہوتا ہے کہ  دوسرے مرحلہ پر   اس الزام کے بارے میں کچھ حقائق پیش کئے جائیں  تا کہ  سب کوعلم  ہو کہ  یہود نے اسرائیل کس طرح بنایا اور اس غرض کے لئے ‘نصاریٰ’ یعنی مغربی طاقتوں نے کس کو مدد  دی۔  معتبر حوالوں کے ساتھ حقائق پیش کئے جاتے ہیں۔

1۔جب  یہودیوں نے فلسطین  میں اسرائیل بنانے کا منصوبہ بنایا تو باقی کئی عرب ممالک کی طرح فلسطین   بھی ترکی کی سلطنت ِ عثمانیہ کا حصہ تھا۔ یہودیوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ ترکی کے سلطان عبدالحمید سے رابطہ کیا ۔ اور ایک مرتبہ  یہ رابطہ مشہور یہودی سائنسدان Haffkineکی وساطت سے بھی کیا  تھا  کہ وہ فلسطین میں  یہودیوں کو آباد ہونے کی اجازت دیں۔ لیکن سلطان عبد الحمید  نے سختی سے نکار کر دیا۔ یہودیوں کے یہ پوزیشن نہیں تھی کہ وہ اُس وقت سلطنت ِ عثمانیہ  سے ٹکر لے سکیں۔

[تحریک ِ خلافت  مصنفہ میم کمال اوکے ، ناشر قائد ِ اعظم اکیڈمی ، 1991ص 163-164]

2۔پہلی جنگ ِ عظیم کے موقع پر جب ترکی جرمنی کے اتحادی کے طور پر شامل ہوا تو برطانیہ کی  افواج کو موقع ملا  کہ وہ ترکی پر حملہ کریں ۔ چنانچہDardanelles کے مقام پر  بحری اور بری حملہ  کیا گیا  لیکن اتحادیوں کو بری طرح شکست ہوئی  اور اتحادیوں کے ڈھائی لاکھ کے قریب افراد مارے گئے اور بہت سے جہاز ڈوب گئے۔بحریہ کے وزیر ونسٹن چرچل کو اپنے  عہدے سے ہٹنا پڑا۔

3۔اب کیا کرتے ؟ اسرائیل  تو نہیں بن سکتا  تھا جب تک  فلسطین پر سلطنت ِ عثمانیہ کا تسلط تھا۔ چنانچہ برطانوی ایجنٹوں کی  ایک کھیپ  عرب ممالک میں سرگرم ہو گئی۔ Philbyاور  شیکسپیئر  اور لارنس   ان سب نے  عربوں  کو  اور خاص طور پر عبدالعزیز السعود[ موجودہ سعودی بادشاہ کے والد ِ ماجد]   کو اور شریف ِ مکہ کو  ترکوں خلاف بغاوت  پر آمادہ کر کے سلطنت ِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر دی۔ پیسے بھی  برطانیہ دے رہا تھا  اور اسلحہ بھی برطانیہ مہیا کر رہا تھا، سارے منصوبے برطانیہ کے تعاون سے بن رہے تھے ۔ اور مسلمانوں کا خون بے دریغ بہایا گیا۔ اس طرح  دوسرے عرب علاقوں کی طرح  فلسطین  سلطنت ِ عثمانیہ کے ہاتھ سے نکل کر  مغربی طاقتوں کے قبضہ میں آ گیا۔ برطانیہ کی اجازت سے  یہودی فلسطین میں آباد ہونے لگے۔ اور اسرائیل بننے کا عمل شروع ہوا۔ شریفِ مکہ اور  عبد العزیزالسعود احمدی  تو بہرحال نہیں تھے ۔ ان کا تعلق کس مسلک سے تھا  یہ تو سب  جانتے ہیں۔

(The Kingdom by Robert Lacey, published by Hutchison 1991 p 103-152]

3۔ اور برطانیہ  کے اصل ارادے کیا تھے  چنانچہ وزیر ِ ہند  Crewe نے  13 اپریل 1915کو بالا حکام کو  یہ رپورٹ بھجوائی :

“۔۔۔میں نہیں سمجھتا کہ استنبول پر قبضہ ہو جانے کے بعد شریفِ مکہ حسین سے متعلق ہماری پالیسی کی وجہ سے ہمیں کوئی پریشانی ہو گی۔ہمیں چاہئے کہ کہ ہم اسے ترکی کی غلامی سے نجات دینے کے لئے ہمارے بس میں جو کچھ ہے وہ کریں۔لیکن اس سلسلے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور کسی کو یہ پتہ نہ چلے کہ ہم اسے مقامِ خلافت پر بٹھانا چاہتے ہیں۔ ہندوستان میں آج کل پان اسلام ازم کی جو تحریک چلی ہوئی ہے اس کا منبع اور مرکز استنبول ہے۔یہاں کے اسلام پسند عناصر اس بات کو قطعی پسند نہیں کریں گے کہ خلافت عثمانیوں کے ہاتھ سے نکل جائے۔لیکن شریف ِ مکہ یا کوئی اور عرب سنی لیڈر اپنے آپ کو عثمانیوں سے آزاد کر کے خلافت جیسے متبرک عنوان کو حاصل کر لے تو مسلمان رائے عامہ اور ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بھی ان کا ساتھ دینے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں رہ جائے گا۔۔۔۔

لیکن اس کے با وجود میرا خیال یہ ہے کہ آئندہ مسئلہ خلافت کی بنا پر مسلمانوں میں پھوٹ پڑ سکتی ہے۔درحقیقت دیکھا جائے تو اس پھوٹ میں ہمارا سراسر فائدہ ہی ہے۔”

(بحوالہ تحریک ِ خلافت تحریر ڈاکٹر میم کمال او کے ،باسفورس یونیورسٹی استنبول،

ترجمہ ڈاکٹر نثار احمد اسرار۔  سنگ ِ میل پبلیکیشنز لاہور1991۔ص54-55)

[نوٹ اُس وقت برطانوی حکومت   اورسعودی خاندان اور شریف ِ مکہ کے درمیان کس قسم کی ساز باز چل رہی تھی ، اس کا ریکارڈ برٹش لائبریری میں موجود ہے   اور اب Declassifyہو چکا ہے اور بہت دلچسپ ہے۔ ان  فائلوں سے ان حقائق  کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔خاکسار نے اس ریکارڈ کا ایک حصہ حاصل کر لیا ہے اور کوئی بھی برٹش لائبریری سے یہ ریکارڈ حاصل کر سکتا ہے۔اسے طلب کرنے پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ بہت سی فائلوں میں ایک فائل کا نمبر درج کردیتا ہوں۔ صرف اس کا مطالعہ ہی صورت ِ حال واضح کر دے گا۔ فائل نمبر  IOR/L/PS/10/388   ہے  ]

پڑھنے والے خود  فیصلہ کر سکتے ہیں  کیا اسرائیل احمدیوں کے تعاون سے بنایا گیا تھا؟ یا وہ گروہ اس میں شامل تھا جوکہ ہمیشہ جماعت ِ احمدیہ کی مخالفت میں پیش پیش رہا ہے۔امید ہے کہ ڈاکٹر شہزاد صاحب    خفا ہونے کی  بجائے  ثبوت کے ساتھ جو نکات  ہم نے لکھے ہیں ان میں سے کسی کو رد کرنے کی کوشش کریں گے۔ فی الحال باؤنڈری کمیشن اور اسرائیل بننے کے بارے میں  حقائق  پر ہی توجہ مرکوز فرمائیں تو  پھر ہم آگے  سلسلہ بڑھا سکیں گے اور مشکور بھی ہوں گے۔

جسٹس شوکت عزیز صاحب، اوریا مقبول جان اور ایک عظیم فیصلہ

جسٹس شوکت عزیز صاحب، اوریا مقبول جان اور ایک عظیم فیصلہ

 ڈاکٹر مرزا سلطان احمد 

Download as PDF

4 جولائی 2018کو جماعت احمدیہ کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جناب جسٹس شوکت عزیز صاحب کا ایک تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ اور 6 جولائی کو مکرم اوریا مقبول جان صاحب کا ایک مضمون “ایک اور عظیم فیصلہ ” کا نام سے روزنامہ 92 نیوز میں شائع ہوا۔ اور اس میں انہوں نے اس فیصلہ کی اور جناب جسٹس شوکت عزیز صاحب کی بہت تعریف فرمائی اور تحریر فرمایا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پڑھ کر جج صاحب کے نام کو بوسہ دیا اور ان کا قلم اس قابل نہیں کہ اس فیصلہ کی تعریف کر سکے۔ اور مزید تحریر فرمایا کہ یہ دعائیں بھٹو صاحب اور ان کے ساتھیوں کے لئے بھی ہیں جنہوں نے 1974 میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی ترمیم منظور فرمائی تھی۔

172 صفحات کے اس فیصلہ میں بہت سے تاریخی واقعات کو اس فیصلہ کی حقیقی بنیاد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس فیصلہ کے قانونی نکات کا جائزہ تو قانون دان حضرات پیش کریں گے لیکن ہر صاحب ِ شعور کو ان تاریخی تفصیلات سے ضرور دلچسپی ہو گی جو کہ جج صاحب نے تحریر کئے ہیں۔ اور ان کو پرکھ کر ہر شخص اس فیصلہ کے بارے میں اپنی رائے قائم کر سکتا ہے۔ ان میں سے چند اہم نکات کے بارے میں جب جائزہ لیا گیا تو ایسی تصویر سامنے اْبھری کہ یقین کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

اوریا مقبول جان صاحب کی طرح جج صاحب نے بھی 1974 میں منظور کی جانے والی دوسری آئینی ترمیم کو اپنے فیصلہ کی اصل بنیاد کے طور پر بیان کیا ہے اور اس ضمن میں خاص طور پر اٹارنی جنرل کی اختتامی تقریر کو تاریخی قرار دے کر اپنے فیصلہ کی تائید میں درج کیا ہے۔ کیونکہ اس تقریر میں ساری کارروائی کا خلاصہ بیان کیا گیا تھا۔ اور یہ تقریر inverted commas میں درج کی گئی ہے، جس کا صاف مطلب ہے کہ معین اور حرف بحرف عبارت درج کی جا رہی ہے۔ لیکن یہ بات سن کر ہر پاکستانی کا حیران رہ جائے گا کہ معزز عدالت کے فیصلہ میں اصل عبارت کو کافی تبدیل کر کے تبدیل شدہ اور تحریف شدہ عبارت درج کی گئی ہے۔ اس فیصلہ کے صفحہ 62 سے  64 پر 1974 کی کارروائی میں اٹارنی جنرل صاحب کی تقریر ملاحظہ کریں، قومی اسمبلی کی طرف سے جو کارروائی شائع کی گئی ہے اس کے صفحہ  2678 تا 2681 پر یہ حصہ شائع کیا گیا ہے۔ دونوں انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ ہر کوئی خود دیکھ سکتا ہے کہ عدالتی فیصلہ میں عبارت بدل کر تحریف شدہ عبارت شائع کی گئی ہے۔ مگر ایسا کیوں کیا گیا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ اپنی تقریر کے آغاز میں ہی اٹارنی جنرل صاحب نے یہ اعتراف کیا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی قراردادیں اپنے اندر ہی  contradiction  (تضاد) رکھتی تھیں۔ یعنی ان دونوں کی عبارت ایسی تھی کہ ان کا ایک حصہ دوسرے کی تردید کر رہا تھا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ قانونی طور پر یہ قراردادیں صحیح نہیں تھیں۔ جب یہ قراردادیں ہی درست نہیں تھیں تو پھر ان پر کی جانے والی کارروائی درست کس طرح ہو گئی؟ اس بات کو چھپانے کے لئے اس عدالتی فیصلہ میں جہاں یہ لفظ آیا ہے وہاں اس لفظ کو conflictسے بدل دیا گیا۔ اسی طرح اٹارنی جنرل صاحب نے یہ اعتراف کیا تھا کہ اگر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تو پھر آئین اور اسلام کی رو سے احمدیوں کو اپنے عقائد profess، practice اورpropagate کرنے کی آزادی دینی ہو گی۔ اور پھر آپ ان کو باغی اور تخریب کار قرار دے کر ان حقوق پر پابندی نہیں لگا سکتے۔ اس عبارت کو درج کرتے ہوئے بھی عدالتی فیصلہ میں عبارت تبدیل کردی گئی ہے اور propagate کا لفظ اْڑا دیا گیا ہے۔ کیونکہ 1984 میں جماعت ِ احمدیہ کے خلاف نافذ کیا جانے والا آرڈیننس اور سارا عدالتی فیصلہ اس حق کی نفی کرتا ہے۔

1953 میں بھی پنجاب میں جماعت ِ احمدیہ کے خلاف فسادات برپا کئے گئے تھے۔ جسٹس شوکت صاحب نے 1953 کے فسادات کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ اور جب وہ اس مرحلہ پر پہنچتے ہیں کہ جب فسادات کرنے والوں کے خلاف قانون اور آرمی حرکت میں آئے تو دیکھتے دیکھتے مہم چلانے والے پیچھے ہٹ گئے تو وہ اس ایکشن کو خلاف قانون قرار دیتے ہیں اور اس بات کی دلیل کے طور پر وہ لکھتے ہیں:

The whole nation condemned it. The action was also resented by the Prime Minister.

 

)پوری قوم نے اس ایکشن کی مذمت کی اور وزیر اعظم اس پر ناراض تھے۔(

یہ بات خلاف واقعہ ہے کیونکہ جب یہ سب واقعات ہو چکے تھے اور عدالت ان فسادات پر تحقیقات کر رہی تھی۔ توخواجہ ناظم الدین صاحب سے 1953 میں لاہور میں ہونے والے جنرل اعظم صاحب کے آرمی کے ایکشن کی بابت سوال کیا گیا۔ انہوں نے جواب دیا:

I, however, accept responsibility for General Muhammad Azam’s action because taking over by the military was, in my opinion the only opinion the situation could be saved.

ترجمہ: البتہ میں جنرل محمد اعظم کے ایکشن کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں کیونکہ میرے نزدیک اس وقت ملٹری کا نظم و نسق سنبھالنا وہ واحد راستہ تھا جس سے صورت ِ حال بچائی جا سکتی تھی۔

اور اس بیان میں سابق وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب نے اقرار کیا کہ انہیں اطلاع مل چکی تھی کہ خود وزیر اعلیٰ پنجاب ممتاز دولتانہ صاحب احمدیوں کے خلاف فسادات کو ہوا دے رہے ہیں۔ اور اس غرض کے لئے وہ خود اخبارات میں احمدیوں کے خلاف کچھ اخبارات میں مضامین شائع کروا رہے ہیں۔ خواجہ ناظم الدین صاحب کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے۔ اور تحقیقاتی عدالت میں یہ ثابت ہوا تھا کہ ان اخبارات کو پنجاب کی حکومت نے ‘تعلیم بالغاں ‘ کے فنڈ سے رقم نکال کر اس رپورٹ کے مطابق ‘عطیہ غیبی ‘ کے طور پر دیئے تھے۔ باوجود اس کے کہ محکمہ تعلیم کے افسران نے اس پر احتجاج بھی کیا تھا۔)رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات ِپنجاب 1953 ص84-85 (

ہم نے صرف دو مثالیں پیش کی ہیں۔ اور ایسی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس فیصلہ میں جو تاریخی واقعات درج کئے گئے ہیں وہ درست نہیں ہیں۔ اب یہ سوال لازمی طور پر اُٹھتا ہے کہ جس فیصلہ میں درج حقائق ہی درست نہ ہوں تو کیا وہ فیصلہ عظیم فیصلہ کہلا سکتا ہے؟

خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں جماعت احمدیہ کے پانچ رکنی وفد کو بلا کر ان سے سوال و جواب کئے گئے ۔ اس تمام عرصہ کی تحریر ی روئداد 2014ء میں منظر عام پر آگئی۔ اس پر ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب نے “دوسری آئینی ترمیم 1974ء خصوصی کمیٹی کی کارروائی پر ریویو”کے عنوان سے تبصرہ پرمشتمل کتاب لکھی تھی ۔ یہ کتاب پہلے شائع ہونے والی کتاب کا ہی تسلسل ہےجس میں مولانا مفتی محمود کی خصوصی کمیٹی میں کی گئی تقریر پر تبصرہ کیا گیا ہے ۔

In 1974, the delegation of the Ahmadiyya Jamaat was asked certain questions by the Special Committee, of the National Assembly of Pakistan. A written account of this process was made public in 2014. Dr. Mirza Sultan Ahmad wrote a review on this written account. The following book is a continuation of it which contains a review on the speech given by Molana Mufti Mahmood in the Special Committee.