خدارا! پاکستان پر رحم کرو

خدا را!۔ پاکستان پر رحم کرو

(شاہد جاوید)

Download as PDF

جس اسمبلی نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا آج اسی اسمبلی کے ممبران کو اپنے اسلام کے سرٹیفکیٹ اور دوبارہ کلمہ طیبہ پڑھنے کی ضرورت پڑرہی ہے۔ قطع نظر اس بحث کےکہ بروزِ حشر خدائےعزوجل کے حضورنجات کے لئے کسی کو کسی انسانی  سرٹیفکیٹ کی  کیاضرورت ہوسکتی ہےیہ بات طے ہے کہ اب آئندہ سےپاکستانی سیاستدانوں   کو بھی اپنے ایمان  کے لئے  انسانی سرٹیفکیٹ کی از بس ضرورت رہے گی اور عند الطلب پیش بھی  کرنا ہوگا اور کسی بھی وقت  Renewکروانے کا حکم بھی مل سکتا ہے۔ اپنے دیگر اعمال میں وہ خدا ئی احکامات پر کس حد تک عمل پیرا ہیں اس حوالہ سے وہ حسب سابق آزاد رہیں گے۔خاطر  بھی جمع رہے اور  سیاستدان رنجیدہ  بھی نہ ہوں  مستقبل قریب میں سیاستدانوں کے علاوہ  اقتدار کے  دیگرسرچشموں کو بھی کسی بھی وقت  اس سرٹیفکیٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور 1974 سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اب نئی شدت اور جدت سے چلتا رہے گا۔ کیونکہ  امن اور محبت کے داعی مذہب کو جس طرح سیاست کے لئے استعمال کیا گیا  رانا ثناء اللہ صاحب کے بی بی سی کو دیے گئے بیان کے مطابق  سب کو اس گڑھے میں گرنا پڑے گا۔

احمدیوں کا   اورپاکستان کی گونگی شریف سول سوسائٹی کا بھی   یہی موقف تھا کہ الیکشن میں ووٹ کے لئے مذہبی سرٹیفکیٹ کو نہ لایا جائے بلکہ الیکشن محض اور محض پاکستانی ہونے کے ناطے ہی ہوں  لیکن   احمدیوں کے مہربانوں کا موقف ہے کہ  نہیں  صاحب ! ہم نے تمہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا تم چپ رہے ، اذانوں پر پابندی لگی  ، آزادی اظہار سلب کرلی گئی  تم پھر چپ رہے۔ اب بحثیت  پاکستانی ووٹ کا حق بھی  اس وقت  تک نہیں مل سکتا جب کہ  جو عقیدہ ہم تمہارا سمجھتے ہیں تم بھی اپنا وہی عقیدہ قرار نہ دے  لو۔ چنانچہ غلطی سے یا حسن اتفاق یا تقدیر سے انتخابی اصلاحات میں  ہمیں تو پتہ بھی نہیں کہ  کیا ہوا اور کیا ہونے جارہا تھا تاہم  یہ پتہ ہے کہ اس کے بعد جو ہوا وہ  پاکستان کے لئے بہرحال اچھا نہیں ہوا۔

احمدیوں سے مذہبی اختلاف رکھنے اور انہیں مسلمان نہ سمجھنے  کا ہر ایک کو حق ہے  لیکن اگر  واقعی آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے تو مذہبی اختلاف میں بھی  قرآنی اور اخلاقی تعلیم کے مطابق عدل ہونا چاہیے   کیونکہ ارشاد باری ہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر مجبور نہ کرے کہ تم عدل کا دامن چھوڑ دو۔

لیکن تاریخ کا سب سے بدترین سبق یہی ہے کہ کسی نے بھی سبق نہیں سیکھا ۔ سب کچھ ہونے کے بعد بھی پڑھے لکھے لوگ جماعت احمدیہ کی دشمنی میں عدل وانصاف کا دامن بالکل ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں ۔

مورخہ30نومبر2017 کے ہی روزنامہ جنگ میں  صحافت کے عظیم استاد وارث میر صاحب(جو صحافتی ضابطہ اخلاق پر بہت زور دیا کرتے تھے۔) کے فرزند جناب حامد میر صاحب کا کالم بعنوان”ختم نبوت پر ایک سوشلسٹ کا موقف” شائع ہوا۔ جس میں انہوں نے ایک سابقہ احمدی ملک محمد جعفر  صاحب کی 1974 میں قومی اسمبلی کی تقریر  اور ان کی   جماعت احمدیہ کے عقائد کے بارے میں کتاب کا حوالہ دیا ہے۔ ان کی تقریر اور کتاب ان کا اپنا موقف تھا  ہر ایک  کا حق ہے کہ اپنا نقطہ نظر رکھے اور بیان کرے۔ تاہم  اتنا ضرور عرض کردوں کہ موصوف جماعت احمدیہ کو چھوڑ کر  اہل قرآن  کے حلقہ اثر میں چلے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ  ان کی کتاب جسے  مجلس تحفظ ختم نبوت اور حامد میر صاحب بڑے شوق سے   پیش کررہے ہیں اس میں انہوں نے جمہور مسلمانوں  بالخصوص اہل حدیث ، اہل تشیع  اور دیوبند نظریات کے بالکل برعکس  حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے حوالہ سے صحیحین  میں بھی موجود تمام روایات کو عجمی  قرار دے کر ختم نبوت کا دروازہ پاکستان کی حد تک  ہمیشہ کے لئے بند کردیا ہے ۔ احمدیوں کے تعصب میں بہت سے لوگوں کو پتہ نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے تاہم یہ ان کا اپنا مسئلہ ہے ۔

حامد میر صاحب نے قومی اسمبلی میں یحیٰ بختیار صاحب  کے حوالہ سے  جو لکھا کہ  اور جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ احمدیوں کے اسرائیل سے تعلقات  ہیں  اس بارے میں   مسلمہ حقائق  پیش کرنا چاہتا ہوں۔

جہاں تک پاکستان میں اسرائیلی ایجنٹ ہونے کا الزام ہے تو اس میں جماعت احمدیہ ہی نشانہ نہیں بنی بلکہ حامد میر صاحب کے قریبی ساتھی  اور صحافی پھرسیاستدان جناب عمران خان صاحب اور بہت سے لوگوں پر یہ الزام تواتر کے ساتھ لگایا جاتا ہے۔ پاکستان کے کچھ مولویوں کا بھی اس حوالہ سے ذکر اخبارات میں ہوتا رہا ہے۔ خود  جناب حامدمیر کے بارے میں بھی ایک سے زائد آراء موجود ہیں۔بلکہ جنگ گروپ پر بھی جو الزام لگے  وہ سب  کے سامنے ہیں۔یہی وجہ  ہے کہ جنگ گروپ کی طرف سے باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے کہ  آدھا سچ بعض اوقات پورے جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے ۔

لیکن حامد میر صاحب نے تو احمدیوں کے بارے میں آدھا سچ بھی نہیں بولا۔ قومی اسمبلی کی 1974 کی جس کاروائی کا حوالہ دیا اس میں متعلقہ حصہ میرے سامنے ہےبلکہ میں نے تو  مجلس تحفظ ختم  نبوت کی طرف سے 5جلدوں پر مشتمل جو کاروائی شائع کی گئی یہ  بحث اس  کی جلد دوئم میں صفحہ نمبر 1061 سے صفحہ نمبر1070 پر موجود  ہے  اس کو بھی دیکھا لیکن حامد میر صاحب نے اپنے کالم میں  جو لکھا  ہے  کہ یحی ٰ بختیار  کے سوال کے جواب میں ” مرزا ناصر احمد نے کہا کہ ہمارے اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔”

یہ الفاظ کسی جگہ موجود نہ ہیں ۔ حیرت ہے کہ اتنا سینئر صحافی بھی اگر اتنی دیدہ دلیری کے ساتھ  حقائق کے ساتھ یہ سلوک کرے تو یہ امر بہرحال مناسب نہ ہے ۔ یہ حامد میر صاحب کو چیلنج ہے کہ معین الفاظ جو انہوں نے  لکھے ہیں وہ دکھائیں۔

قومی اسمبلی میں اصل موضوع ختم نبوت کو چھوڑ کر دیگر وہ الزامات جو احمدیوں کے علاوہ بھی بطور فیشن  بہت سے پاکستانیوں پر لگائے جاتے ہیں   ان کے بارے میں یحیٰ بختیار صاحب نے جس طرح اپنی مرضی کی بات  کہلوانے کے لئے جرح کی اس پر امام جماعت احمدیہ  نے فرمایا غالبا جس سے حامد میر صاحب  نے اپنی خواہش کے مطابق نتیجہ نکال کر  لکھ مارا،  عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت  کی طرف سے شائع ہونے والی کاروائی  کے مطابق بھی درج ذیل ہے:

” اور1924ء ، 1928ء میں جماعت وہاں بنی  ۔1928ء میں ۔۔۔۔کبابیر جو ہے جس کا نام یہاں آیا ہے۔ وہاں ایک سینٹر بنا  جماعت کا 1928 سے  وہاں کے تمام دوسرے فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں  کے ساتھ نہایت برادرانہ تعلقات ہیں۔ اب بھی برادرانہ تعلقات ہیں۔ پوچھنا  تو یہ چاہیے کہ جو وہاں  دوسرے مسلمان ہیں،95فیصد، ان کے حقوق کے لئے اگر کچھ کیا جاسکے،کسی باعث بھی ہمارے تو ان کے ساتھ تعلقات نہیں ہیں ڈپلومیٹک۔ ان کی خبر گیری کرنی چاہیے۔ تو اس طرف ہم توجہ نہ دیں، اور جو پیار کے آپس کے تعلقات ہیں ، ان کو جائے اعتراض بنا لیں تو وہ کچھ اچھا نہیں لگتا اگر ان کو پتہ لگے، جو ہمارے احمدی نہیں،95فیصد، وہ بھی اس کو پسندنہیں کریں گے،یہ میں آپ کو بتادیتا ہوں ، کیونکہ بہت اچھے تعلقات ہیں ان لوگوں کے ساتھ۔ ”

(بحوالہ قومی اسمبلی  میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ  ، تحقیق وتخریج مولانا اللہ وسایا جلد دوئم صفحہ نمبر1070)

اب  اس سے پہلے  امام جماعت احمدیہ واضح کرچکے تھے کہ جس  مشن ہاؤس کی بات ہورہی ہے وہ اسرائیل کے قیام سے بہت پہلے سے موجود ہے۔ وہاں 95 فیصد دیگر مسالک کے مسلمان ہیں  اور 5فیصد احمدی ہیں۔  دیگر مسلمانوں سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔اس میں یہ کہاں سے حامد میر صاحب نے نکال لیا کہ اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقا ت ہیں۔

حامد میر صاحب نے تاثر تو یہ دیا کہ جیسے انہوں نے وہ کارووائی ساری پڑھی ہوئی ہے   یا تو حامد میر صاحب کا یہ دعویٰ درست نہیں یا پھر جان بوجھ کر حقائق سے چشم پوشی کررہے ہیں کیونکہ اس ساری گفتگو میں امام جماعت احمدیہ   یہ وضاحت کررہے ہیں کہ ہمارے کیسے تعلقات ہوسکتے ہیں  ویسٹ افریقہ کے ملکوں کے دورے کے دوران مجھے دو ملکوں میں اسرائیلی سفارت خانے کی طرف سے   کہا گیا کہ اسرائیلی سفیر آپ سے ملنا چاہتا ہے۔” لیکن میں نے صاف جواب دے دیا کہ میں نہیں ملنا چاہتا تم سے۔”

دوران گفتگو بھی  یحیٰ بختیار صاحب غالبا ضمیر کے کچوکے کی وجہ سے کہہ اٹھتے ہیں کہ “مرزا صاحب آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں Insinuateکررہا ہوں ۔ حالانکہ اسرائیل کے حوالے سے ساری گفتگو کا جائزہ لیں تو  یحیٰ بختیار صاحب کی دلی خواہش کاا ظہار ہوجاتا ہے کہ کس طرح مختلف زاویوں سے کوشش تھی کہ وہ اپنے مطلب کی بات کہلوا لیں۔ لیکن جب حقائق ہی کچھ اور تھے تو بات نہ ہوئی تو اسرائیل والی گفتگو کے آخر پر   یحیٰ بختیار  صاحب فرماتے ہیں کہ  “شک رہتا ہے  میں تو اس واسطہ پوچھتا ہوں” بحث کے بالکل آخر پر  کہا کہ بات کلیئر کرنے کے لئے پوچھا تھا۔  اب جس بات پر اس وقت کے اٹارنی جنرل  وضاحت کررہے ہیں کہ شک رہتا ہے  بات کلیئر کرنے کے لئے پوچھا۔ آج کے ہمارے سینئر صحافی  اس کو یقین کی صورت میں الفاظ بدل کر حتمی نتیجہ   کے طورپر پیش کردیتے ہیں۔ حالانکہ 1974 میں اگر یہ ثابت ہوتا کہ احمدی ملک دشمن ہیں یا اسرائیل سے تعلقات ہیں تو پھر تو بلی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹنا تھا ۔  قومی اسمبلی کی کاروائی میں صرف ختم نبوت جس پر اسمبلی میں بحث ہی نہ ہوئی اس کے نام پر غیر مسلم قرار دیا ۔ کسی نے نہیں کہا کہ ثابت ہوگیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ان کے تعلقا ت ہیں۔

کیونکہ اس وقت قریب  لوگ بہر حال جانتے تھے کہ اسرائیل کے قیام کے وقت کس طرح احمدیوں نے اس کے خلاف آواز بلند کی۔ جس طرح امام جماعت احمدیہ نے قومی اسمبلی میں فرمایا تھا کہ

“پوچھنا تو یہ چاہیے کہ جو وہاں  دوسرے مسلمان ہیں ،95 فیصد ، ان کے حقوق کے لئے اگر کچھ کیا جاسکے۔”

اسی طرح نہ صرف وہاں کے احمدیوں نے مسلمانوں کے حقوق کی آواز موثر طور پر بلند کی جس کا چرچا فلسطین کے اخبارات میں بھی ہوتا رہا بلکہ چوہدری محمد ظفراللہ خان   ہی وہ احمدی سپوت تھے جنہوں نے نہایت قابلیت سے عربوں کا موقف اقوام متحدہ میں پیش کیا۔

چوہدری صاحب کے عقیدہ کی پختگی  پر کوئی اعتراض نہیں کرسکتا کیونکہ یہ وہی تھےجو قائداعظم سے بے پناہ پیار کی وجہ سے ان کی تدفین کے موقع پر  موجود رہے  لیکن    اس امام کی وجہ  سے جس نے احمدیوں کے خلاف کفر اور قتل کے فتوے  دیے ہوئے تھے اس کے پیچھے جنازہ نہیں پڑھا ۔ یہ الگ بحث ہے کہ چوہدری سرظفراللہ خان پر تو اعتراض کیا جاتا ہے لیکن آج پاکستان کی ٹھیکیدار بننے والی جماعت اسلامی سے کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ آپ کے کون کون سے لیڈروں نے قائد اعظم کا جنازہ پڑھا۔خیر یہ الگ موضوع ہے۔
جس پر بختیار صاحب بھی معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔  کیونکہ سب جانتے تھے کہ اس وقت فلسطین کے مسلمانوں کے حقوق کی آواز سب سے زیادہ موثر طورپر جماعت احمدیہ نےہی  اٹھائی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس زمانہ کے پاکستان کے وزیر مذہبی امور کو بھی بیان دینا پڑھا کہ  اسرائیل میں کوئی پاکستانی احمدی موجود نہیں۔

چوہدری سر محمد ظفراللہ خان  نے فلسطینی مسلمانوں کا کیس  جس طرح اقوام متحدہ میں پیش کیا کہ عرب کے لوگ بھی بے اختیار  دادو تحسین دینے پر مجبور ہوگئے۔ بہت سے عرب حکمرانوں نے  چوہدری صاحب کا شکریہ ادا کیا ۔ صرف سعودی حکمران شاہ فیصل کے خط کا عکس درج ذیل ہے۔

اب حیرت ہے کہ عرب تو شکریہ ادا کررہے ہیں شاہ فیصل صاحب  شکریہ ادا کررہے ہیں  لیکن پاکستان میں احمدیوں پر الزام لگایا جارہا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات ہیں۔  یہی مذہبی شدت پسندی تھی جس کو احمدیوں  کے لئے جائز قراردیا گیا اور آج پورے ملک کے جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ اس لئے خدا کے لئے ہمارے پیارے پاکستان پر رحم کریں۔ اس ملک کے لئے احمدیوں نے بھی قائد اعظم کے شانہ بشانہ کام کیا ہوا ہے ۔ اس کے لئے قربانیاں دی ہوئی ہیں۔ یہ درست ہے کہ

جب چمن کو لہو کی ضرورت پڑی تو سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی

پھر بھی کہتے ہیں ہم سے یہ اہل چمن یہ چمن ہے ہمارا تمہار نہیں

بے شک کہتے رہیں  لیکن پاکستان سے ہمیں پیار ہے  اور رہے گا۔ بعض پاکستانی ہمارے ساتھ جوبھی سلوک کرلیں یہ کیوں کررہے ہیں  یہ کہانی پھر سہی ۔ بہرحال پاکستان رحم کئے جانے کی اپیل ہے۔خدا کے لئے سچ کو سچ رہنے دیں۔