حامد میر کی احمدیوں کے بارے میں تسلسل سے غلط بیانی

حامد میر کی احمدیوں کے بارے میں تسلسل سے غلط بیانی

(ارمغان احمد داؤد)

download as PDF

حامد میر صاحب کا آج مؤرخہ11 دسمبر 2017 کو ایک کالم ’ختم نبوت اور بھٹو کا سیکولرزم‘ روزنامہ جنگ میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے احمدیوں کے بارے میں پھر پیٹ بھر کر جھوٹ بولا ہے۔ ان ہی جھوٹی باتوں کا تعاقب آج کا موضوع ہے۔

پہلی بات وہ لکھتے ہیں کہ ’قائداعظم بھی احمدیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے‘۔ پہلی بات تو یہ کہ جہاں آپ کے سب علماء و مشائخ احمدیوں کو کافرسمجھتے ہیں تو قائداعظم کے کافر سمجھنے یا نہ سمجھنے سے کیا ہوگا؟ فرض کریں وہ احمدیوں کو کافر سمجھتے تھے تو احمدیوں کو کیا فرق پڑے گا اورفرض کریں کہ قائداعظم احمدیوں کو کافر نہیں سمجھتے تھے تو کیا آپ کو کچھ فرق پڑے گا؟ جب دونوں طرح دونوں فریقوں کو کوئی فرق نہیں پڑنا تو بار بار احمدیوں کے ’کفر‘ کو کبھی کسی اور کبھی کسی کے نام سے ذکر کرنا نفرت پھیلانے کے علاوہ اور کوئی مقصد نہیں رکھتا۔

شاید آپ کو معلوم ہو کہ سنہ 1933 کے سنڈے ٹائمز، مدراس میل اور سول اینڈ ملٹری گزٹ کے مطابق لندن کی احمدی عبادت گاہ ’فضل لندن‘ میں قائد اعظم نہ صرف تشریف لا چکے ہیں بلکہ وہاں نماز بھی ادا کر چکے ہیں۔ اب اگر قائداعظم احمدیوں کو کافر سمجھتے تو احمدیوں کی عبادت گاہ  میں جا کر نماز پڑھنا چہ معنی دارد؟

اسی طرح 1944 میں جب پیر اکبر علی صاحب نے قائداعظم سے احمدیوں کی مسلم لیگ کی ممبر شپ کے بارے میں سوال کیا تو قائداعظم نے جواب دیا کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے آئین کے مطابق احمدیوں پر مسلم لیگ کا ممبر بننے پر کوئی قدغن نہیں ہے اور ان کے وہی حقوق ہیں جو کہ مسلمانوں کے دوسرے بہت سے فرقوں کے ممبرز کے ہیں۔ یہ خبر ڈان 4 مئی 2014 میں ’آج سے ستر سال پہلے‘ کے عنوان کے تحت شائع ہوئی۔

اس کے آگے حامد میر صاحب لکھتے ہیں کہ ’سر ظفراللہ خان کو اپنے عقیدے کے بارے میں قائداعظم کے خیالات کا علم تھا اور شاید اسی لئے انہوں نے 1948 میں قائداعظم کی نمازہ جنازہ نہیں پڑھی تھی اور ایک تنازع پیدا ہوا‘۔ حامد میر صاحب کی بہت بری عادت ہے کہ جن باتوں کی پھرپور وضاحت موجود ہو ان باتوں میں بھی ’شاید‘ اور ’غالباً‘ لگا کر اپنے تجزیے کے تڑکے لگانے سے نہیں چوکتے چاہے اس سے بات کا مطلب خراب ہی کیوں نہ ہو جائے۔

19 جنوری 1954 کو 1953 کے فسادات کی تحقیقاتی عدالت میں سر ظفر اللہ کا بیان ریکارڈ ہوا۔ جماعت اسلامی کے چوہدری نذیر احمدخان صاحب نے قائد اعظم کے جنازے کے متعلق سوال کیا:

سوال: کیا یہ حقیقت ہے کہ آپ نے قائداعظم کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی؟

جواب: میں اصل نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوا لیکن میں جنازے کے جلوس کے ساتھ تھا۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ نماز جنازہ مرحوم مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی تھی جن کے خیال کے مطابق میں کافر اور مرتد تھا اور مجھے سزائے موت دے دینی چاہیے تھی۔

یہ سب سوالات و جوابات اخبار روزنامہ ’ملت‘ مؤرخہ 21 جنوری 1954 میں شائع ہوئے تھے۔ حیرت در حیرت ہے کہ آپ لوگ ایک طرف سر ظفراللہ کو کافر سمجھتے ہیں اور دوسری طرف ان کی طرف سے جنازہ نہ پڑھنے پر ’تنازع‘ کھڑا کرتے ہیں۔ حامد میر صاحب، اگر جنازہ نہ پڑھنا اتنا ہی تنازع کا باعث عمل ہے تو براہ کرم اپنے قارئین کو بتائیں کہ کیا جماعت اسلامی کے بانی و سربراہ مولانا مودودی نے قائداعظم کا جنازہ پڑھا تھا؟ اگر نہیں پڑھا تھا تو ان کی طرف سے کیا وجہ بتائی گئی تھی جنازہ نہ پڑھنے کی؟ اور کیا کوئی تنازع پیدا ہوا تھا؟ اور کیا آپ جیسوں نے کسی مضمون پر مولانا مودودی کا بھی قائداعظم کا جنازہ نہ پڑھنے کا ذکر کیا ہے؟ جہاں تک ہمیں یاد ہے27 فروری 1978 کے مساوات میں میاں طفیل اور غفور احمد صاحبان نے یہ وجہ بتائی تھی کہ قائداعظم کے نمازہ جنازہ میں شرکت ضروری نہیں تھی۔ حامد میر صاحب، کبھی اپنی منجی کے تھلے بھی ڈانگ پھیر لیا کریں۔

حامد میر صاحب آگے لکھتے ہیں کہ احمدیوں کے اسرائیل میں مشن کا ذکر صفحہ 1061 سے 1070 میں ہے۔ قومی اسمبلی کی مطبوعہ کارروائی میرے سامنے کھلی پڑی ہے، جن صفحات کا ذکر حامد میر صاحب نے کیا ہے اس میں ایسا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ حامد میر صاحب، آپ نے 30 نومبر 2017 کے کالم میں اسرائیل کے متعلق سوال و جواب 20 اگست 1974 کی کارروائی کی طرف منسوب کیے تھے۔ جب آپ کوبتایا گیا کہ 20 اگست 1974کی کارروائی میں ایسی کوئی بات موجود نہیں تو آپ نے آج کے کالم میں لکھا کہ کارروائی کی آٹھویں جلد کے صفحہ 1061 سے 1070 میں ذکر موجود ہے جو کہ 21اگست 1974 کی کارروائی ہے نہ کہ 20 اگست 1974 کی۔ اور طرہ یہ کہ ان صفحات میں بھی آپ کی بتائی گئی باتیں نہیں موجود خاص طور پر آپ کے الفاظ کہ ’ہمارے اسرائیل سے اچھے تعلقات ہیں‘۔ حامد میر صاحب، کچھ خدا کا

خوف کریں، آخر خدا کو جان دینی ہے۔