Tag Archives: ڈاکٹر مرزا سلطان احمد

کیا اسرائیل احمدیوں کے تعاون سے بنا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیا اسرائیل احمدیوں کے تعاون سے بناتھا؟

(ڈاکٹر مرزا سلطان احمد)

Download as PDF

روزنامہ پاکستان لاہور 17ستمبر 2018میں  ڈاکٹر شہزاد صاحب کا ایک مضمون  ‘مسئلہ احمدیت :کیا یہ صرف مذہبی مسئلہ ہے؟’ کے نام سے شائع ہوا۔  اس میں جماعت ِ احمدیہ پر بہت  سے الزامات   لگائے گئے ہیں۔   ان الزامات میں ایک الزام  انہی کے الفاظ میں درج کیا جاتا ہے۔

“ستر سال بعد  جب متحدہ ہندوستان کا بٹوارہ ہونے لگا تو مرزا کے احمدی پیروکاروں نے  بطور جماعت انگریز سرکار سے یہ کہہ کر  خود کو مسلمانوں سے الگ کر لیا کہ “ہم ایک الگ وجود رکھتے ہیں اور یہ کہ جن لوگوں کو تم مسلمان کے طور پر گن گن کر  ضلعی تقسیمیں  کر رہے ہو وہ ‘مسلمان’ اور ہیں اور اصل مسلمان ہم ہیں۔ہمیں  ان لوگوں میں نہ گنا جائے۔”

اس کے جواب میں خاکسار کا ایک مضمون 20 ستمبر کو   روزنامہ پاکستان  میں اور ‘ہم سب ‘ پر شائع ہوا اور اس میں خاکسار نے عرض کی تھی  کہ  ایک عرصہ سے باؤنڈری کمیشن کی کارروائی شائع ہو چکی ہے ۔ اور اس کمیشن کے روبرو  جماعت کا موقف بھی شائع ہو چکا ہے۔ جو موقف آپ نے جماعت ِ احمدیہ   کی طرف منسوب کیا ہے وہ  اس شائع شدہ کارروائی میں کہیں نہیں پایا جاتا۔ براہ  مہربانی  یہ فرمائیں کہ جو  بات آپ نے  جماعت ِ احمدیہ  کی طرف منسوب فرمائی ہے وہ کس صفحہ  پر ہے۔ اس کے جواب میں روزنامہ پاکستان 24 ستمبر میں اُن  کا ایک طویل مضمون شائع ہوا۔ اور معلوم ہوتا تھا کہ ناراضگی کی کیفیت میں تحریر فرمایا ہے۔اس پہلو سے اس مضمون کے کچھ پہلو ملاحظہ ہوں  [1] وہ اپنے دعوے کا حوالہ پیش نہیں کر سکے [2]  انہوں نے تحریر فرمایا”سب جانتے ہیں کہ اخبارات میں  کتابوں کے حوالے اور اقتباس دینے کا عمل  بڑی حد تک ناروا  تکلف ہوتا ہے”۔[3]  پھر وہ لکھتے ہیں”یہ ان کا میرے اوپر قرض ہے ۔ جس پر میں بھر پور انداز  میں لکھ کر ان کی خدمت میں پیش کروں گا “[4] پھر بالکل  اُلٹ موقف ان الفاظ میں پیش فرمایا” اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا  کہ تقسیم ِ ہند کے وقت انہوں نے کیا کہا تھا۔” مکرم ڈاکٹر شہزاد صاحب  نے خود  ایک  دعویٰ کیا ۔ اور جب حوالہ مانگا گیا تو تحریر فرمایا کہ  حوالے دینے کا عمل تو اخبارات میں ناروا عمل سمجھا جاتا ہے۔ اور   فرمانے لگے آخر اس سے فرق  ہی کیا پڑتا ہے؟  عرض ہے کہ  جو کارروائی شائع ہوئی ہے اس کی  پہلی جلد کے صفحہ 428سے 449پر جماعت ِ احمدیہ کا موقف شائع ہوا ہے ۔ آپ ناراض ہونے  کی بجائے  ہمیں یہ بتا دیں کہ باؤنڈری کمیشن کے روبرو  جو  موقف آپ نے  جماعت ِ احمدیہ کی  طرف منسوب کیا ہے وہ کس صفحہ نمبر پر موجود ہے؟ اور آپ کو مزید تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں ۔آپ کے جس دعوے کو  چیلنج کیا گیا تھا ، آپ اُس کا ثبوت تو دے  نہیں سکے ، اس کی جگہ ایک اور غلط  دعویٰ پیش کر دیا  کہ  جماعت ِ احمدیہ کےچینل   MTA3کی عربی نشریات اسرائیل سے ہو رہی ہیں۔ بہت افسوس سے عرض کرنا پڑ رہا ہے کہ آپ  کا یہ دعویٰ مکمل  طور پر غلط ہے ۔ یہ نشریات لندن سے ہو رہی ہیں  اور آپ کی مزید تسلی کے لئے  ہم لنک درج کردیتے ہیں جس پر  آپ کو اس چینل کی satellitesکی بھی تفصیلات مل جائیں گی[http://www.mta.tv/satellite-info]۔اور  اگر MTAکے باقی چینل  لندن سے پروگرام  نشر کر رہے ہیں  تو یہ بات  خلاف ِ عقل ہے کہ صرف عربی  نشریات کے لئے  اسرائیل کا رُخ کیا جائے اور وہاں نیا سیٹ اپ  بنایا جائے۔ اور آج کل انٹرنیٹ پر یہ تمام تفصیلات  آسانی  سے چیک کی جا سکتی ہیں۔ اور اس زمانے میں  یہ پتہ چلانا  ہر گز مشکل نہیں کہ کون سا چینل اپنی نشریات کہاں سے  نشر کر رہا ہے۔

ان دونوں  مضامین میں ڈاکٹر شہزاد صاحب   نے اسرائیل بننے کی سازش کا ذکر کیا ہے  اور پھر یہ دعویٰ کیا ہے  کہ خدانخواستہ  جماعت ِ احمدیہ ان کے الفاظ میں ‘یہود و نصاریٰ ‘ کی مدد سے چل رہی ہے۔ مناسب ہوتا ہے کہ  دوسرے مرحلہ پر   اس الزام کے بارے میں کچھ حقائق پیش کئے جائیں  تا کہ  سب کوعلم  ہو کہ  یہود نے اسرائیل کس طرح بنایا اور اس غرض کے لئے ‘نصاریٰ’ یعنی مغربی طاقتوں نے کس کو مدد  دی۔  معتبر حوالوں کے ساتھ حقائق پیش کئے جاتے ہیں۔

1۔جب  یہودیوں نے فلسطین  میں اسرائیل بنانے کا منصوبہ بنایا تو باقی کئی عرب ممالک کی طرح فلسطین   بھی ترکی کی سلطنت ِ عثمانیہ کا حصہ تھا۔ یہودیوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ ترکی کے سلطان عبدالحمید سے رابطہ کیا ۔ اور ایک مرتبہ  یہ رابطہ مشہور یہودی سائنسدان Haffkineکی وساطت سے بھی کیا  تھا  کہ وہ فلسطین میں  یہودیوں کو آباد ہونے کی اجازت دیں۔ لیکن سلطان عبد الحمید  نے سختی سے نکار کر دیا۔ یہودیوں کے یہ پوزیشن نہیں تھی کہ وہ اُس وقت سلطنت ِ عثمانیہ  سے ٹکر لے سکیں۔

[تحریک ِ خلافت  مصنفہ میم کمال اوکے ، ناشر قائد ِ اعظم اکیڈمی ، 1991ص 163-164]

2۔پہلی جنگ ِ عظیم کے موقع پر جب ترکی جرمنی کے اتحادی کے طور پر شامل ہوا تو برطانیہ کی  افواج کو موقع ملا  کہ وہ ترکی پر حملہ کریں ۔ چنانچہDardanelles کے مقام پر  بحری اور بری حملہ  کیا گیا  لیکن اتحادیوں کو بری طرح شکست ہوئی  اور اتحادیوں کے ڈھائی لاکھ کے قریب افراد مارے گئے اور بہت سے جہاز ڈوب گئے۔بحریہ کے وزیر ونسٹن چرچل کو اپنے  عہدے سے ہٹنا پڑا۔

3۔اب کیا کرتے ؟ اسرائیل  تو نہیں بن سکتا  تھا جب تک  فلسطین پر سلطنت ِ عثمانیہ کا تسلط تھا۔ چنانچہ برطانوی ایجنٹوں کی  ایک کھیپ  عرب ممالک میں سرگرم ہو گئی۔ Philbyاور  شیکسپیئر  اور لارنس   ان سب نے  عربوں  کو  اور خاص طور پر عبدالعزیز السعود[ موجودہ سعودی بادشاہ کے والد ِ ماجد]   کو اور شریف ِ مکہ کو  ترکوں خلاف بغاوت  پر آمادہ کر کے سلطنت ِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر دی۔ پیسے بھی  برطانیہ دے رہا تھا  اور اسلحہ بھی برطانیہ مہیا کر رہا تھا، سارے منصوبے برطانیہ کے تعاون سے بن رہے تھے ۔ اور مسلمانوں کا خون بے دریغ بہایا گیا۔ اس طرح  دوسرے عرب علاقوں کی طرح  فلسطین  سلطنت ِ عثمانیہ کے ہاتھ سے نکل کر  مغربی طاقتوں کے قبضہ میں آ گیا۔ برطانیہ کی اجازت سے  یہودی فلسطین میں آباد ہونے لگے۔ اور اسرائیل بننے کا عمل شروع ہوا۔ شریفِ مکہ اور  عبد العزیزالسعود احمدی  تو بہرحال نہیں تھے ۔ ان کا تعلق کس مسلک سے تھا  یہ تو سب  جانتے ہیں۔

(The Kingdom by Robert Lacey, published by Hutchison 1991 p 103-152]

3۔ اور برطانیہ  کے اصل ارادے کیا تھے  چنانچہ وزیر ِ ہند  Crewe نے  13 اپریل 1915کو بالا حکام کو  یہ رپورٹ بھجوائی :

“۔۔۔میں نہیں سمجھتا کہ استنبول پر قبضہ ہو جانے کے بعد شریفِ مکہ حسین سے متعلق ہماری پالیسی کی وجہ سے ہمیں کوئی پریشانی ہو گی۔ہمیں چاہئے کہ کہ ہم اسے ترکی کی غلامی سے نجات دینے کے لئے ہمارے بس میں جو کچھ ہے وہ کریں۔لیکن اس سلسلے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور کسی کو یہ پتہ نہ چلے کہ ہم اسے مقامِ خلافت پر بٹھانا چاہتے ہیں۔ ہندوستان میں آج کل پان اسلام ازم کی جو تحریک چلی ہوئی ہے اس کا منبع اور مرکز استنبول ہے۔یہاں کے اسلام پسند عناصر اس بات کو قطعی پسند نہیں کریں گے کہ خلافت عثمانیوں کے ہاتھ سے نکل جائے۔لیکن شریف ِ مکہ یا کوئی اور عرب سنی لیڈر اپنے آپ کو عثمانیوں سے آزاد کر کے خلافت جیسے متبرک عنوان کو حاصل کر لے تو مسلمان رائے عامہ اور ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بھی ان کا ساتھ دینے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں رہ جائے گا۔۔۔۔

لیکن اس کے با وجود میرا خیال یہ ہے کہ آئندہ مسئلہ خلافت کی بنا پر مسلمانوں میں پھوٹ پڑ سکتی ہے۔درحقیقت دیکھا جائے تو اس پھوٹ میں ہمارا سراسر فائدہ ہی ہے۔”

(بحوالہ تحریک ِ خلافت تحریر ڈاکٹر میم کمال او کے ،باسفورس یونیورسٹی استنبول،

ترجمہ ڈاکٹر نثار احمد اسرار۔  سنگ ِ میل پبلیکیشنز لاہور1991۔ص54-55)

[نوٹ اُس وقت برطانوی حکومت   اورسعودی خاندان اور شریف ِ مکہ کے درمیان کس قسم کی ساز باز چل رہی تھی ، اس کا ریکارڈ برٹش لائبریری میں موجود ہے   اور اب Declassifyہو چکا ہے اور بہت دلچسپ ہے۔ ان  فائلوں سے ان حقائق  کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔خاکسار نے اس ریکارڈ کا ایک حصہ حاصل کر لیا ہے اور کوئی بھی برٹش لائبریری سے یہ ریکارڈ حاصل کر سکتا ہے۔اسے طلب کرنے پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ بہت سی فائلوں میں ایک فائل کا نمبر درج کردیتا ہوں۔ صرف اس کا مطالعہ ہی صورت ِ حال واضح کر دے گا۔ فائل نمبر  IOR/L/PS/10/388   ہے  ]

پڑھنے والے خود  فیصلہ کر سکتے ہیں  کیا اسرائیل احمدیوں کے تعاون سے بنایا گیا تھا؟ یا وہ گروہ اس میں شامل تھا جوکہ ہمیشہ جماعت ِ احمدیہ کی مخالفت میں پیش پیش رہا ہے۔امید ہے کہ ڈاکٹر شہزاد صاحب    خفا ہونے کی  بجائے  ثبوت کے ساتھ جو نکات  ہم نے لکھے ہیں ان میں سے کسی کو رد کرنے کی کوشش کریں گے۔ فی الحال باؤنڈری کمیشن اور اسرائیل بننے کے بارے میں  حقائق  پر ہی توجہ مرکوز فرمائیں تو  پھر ہم آگے  سلسلہ بڑھا سکیں گے اور مشکور بھی ہوں گے۔

جسٹس شوکت عزیز صاحب، اوریا مقبول جان اور ایک عظیم فیصلہ

جسٹس شوکت عزیز صاحب، اوریا مقبول جان اور ایک عظیم فیصلہ

 ڈاکٹر مرزا سلطان احمد 

Download as PDF

4 جولائی 2018کو جماعت احمدیہ کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جناب جسٹس شوکت عزیز صاحب کا ایک تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ اور 6 جولائی کو مکرم اوریا مقبول جان صاحب کا ایک مضمون “ایک اور عظیم فیصلہ ” کا نام سے روزنامہ 92 نیوز میں شائع ہوا۔ اور اس میں انہوں نے اس فیصلہ کی اور جناب جسٹس شوکت عزیز صاحب کی بہت تعریف فرمائی اور تحریر فرمایا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پڑھ کر جج صاحب کے نام کو بوسہ دیا اور ان کا قلم اس قابل نہیں کہ اس فیصلہ کی تعریف کر سکے۔ اور مزید تحریر فرمایا کہ یہ دعائیں بھٹو صاحب اور ان کے ساتھیوں کے لئے بھی ہیں جنہوں نے 1974 میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی ترمیم منظور فرمائی تھی۔

172 صفحات کے اس فیصلہ میں بہت سے تاریخی واقعات کو اس فیصلہ کی حقیقی بنیاد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس فیصلہ کے قانونی نکات کا جائزہ تو قانون دان حضرات پیش کریں گے لیکن ہر صاحب ِ شعور کو ان تاریخی تفصیلات سے ضرور دلچسپی ہو گی جو کہ جج صاحب نے تحریر کئے ہیں۔ اور ان کو پرکھ کر ہر شخص اس فیصلہ کے بارے میں اپنی رائے قائم کر سکتا ہے۔ ان میں سے چند اہم نکات کے بارے میں جب جائزہ لیا گیا تو ایسی تصویر سامنے اْبھری کہ یقین کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

اوریا مقبول جان صاحب کی طرح جج صاحب نے بھی 1974 میں منظور کی جانے والی دوسری آئینی ترمیم کو اپنے فیصلہ کی اصل بنیاد کے طور پر بیان کیا ہے اور اس ضمن میں خاص طور پر اٹارنی جنرل کی اختتامی تقریر کو تاریخی قرار دے کر اپنے فیصلہ کی تائید میں درج کیا ہے۔ کیونکہ اس تقریر میں ساری کارروائی کا خلاصہ بیان کیا گیا تھا۔ اور یہ تقریر inverted commas میں درج کی گئی ہے، جس کا صاف مطلب ہے کہ معین اور حرف بحرف عبارت درج کی جا رہی ہے۔ لیکن یہ بات سن کر ہر پاکستانی کا حیران رہ جائے گا کہ معزز عدالت کے فیصلہ میں اصل عبارت کو کافی تبدیل کر کے تبدیل شدہ اور تحریف شدہ عبارت درج کی گئی ہے۔ اس فیصلہ کے صفحہ 62 سے  64 پر 1974 کی کارروائی میں اٹارنی جنرل صاحب کی تقریر ملاحظہ کریں، قومی اسمبلی کی طرف سے جو کارروائی شائع کی گئی ہے اس کے صفحہ  2678 تا 2681 پر یہ حصہ شائع کیا گیا ہے۔ دونوں انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ ہر کوئی خود دیکھ سکتا ہے کہ عدالتی فیصلہ میں عبارت بدل کر تحریف شدہ عبارت شائع کی گئی ہے۔ مگر ایسا کیوں کیا گیا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ اپنی تقریر کے آغاز میں ہی اٹارنی جنرل صاحب نے یہ اعتراف کیا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی قراردادیں اپنے اندر ہی  contradiction  (تضاد) رکھتی تھیں۔ یعنی ان دونوں کی عبارت ایسی تھی کہ ان کا ایک حصہ دوسرے کی تردید کر رہا تھا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ قانونی طور پر یہ قراردادیں صحیح نہیں تھیں۔ جب یہ قراردادیں ہی درست نہیں تھیں تو پھر ان پر کی جانے والی کارروائی درست کس طرح ہو گئی؟ اس بات کو چھپانے کے لئے اس عدالتی فیصلہ میں جہاں یہ لفظ آیا ہے وہاں اس لفظ کو conflictسے بدل دیا گیا۔ اسی طرح اٹارنی جنرل صاحب نے یہ اعتراف کیا تھا کہ اگر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تو پھر آئین اور اسلام کی رو سے احمدیوں کو اپنے عقائد profess، practice اورpropagate کرنے کی آزادی دینی ہو گی۔ اور پھر آپ ان کو باغی اور تخریب کار قرار دے کر ان حقوق پر پابندی نہیں لگا سکتے۔ اس عبارت کو درج کرتے ہوئے بھی عدالتی فیصلہ میں عبارت تبدیل کردی گئی ہے اور propagate کا لفظ اْڑا دیا گیا ہے۔ کیونکہ 1984 میں جماعت ِ احمدیہ کے خلاف نافذ کیا جانے والا آرڈیننس اور سارا عدالتی فیصلہ اس حق کی نفی کرتا ہے۔

1953 میں بھی پنجاب میں جماعت ِ احمدیہ کے خلاف فسادات برپا کئے گئے تھے۔ جسٹس شوکت صاحب نے 1953 کے فسادات کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ اور جب وہ اس مرحلہ پر پہنچتے ہیں کہ جب فسادات کرنے والوں کے خلاف قانون اور آرمی حرکت میں آئے تو دیکھتے دیکھتے مہم چلانے والے پیچھے ہٹ گئے تو وہ اس ایکشن کو خلاف قانون قرار دیتے ہیں اور اس بات کی دلیل کے طور پر وہ لکھتے ہیں:

The whole nation condemned it. The action was also resented by the Prime Minister.

 

)پوری قوم نے اس ایکشن کی مذمت کی اور وزیر اعظم اس پر ناراض تھے۔(

یہ بات خلاف واقعہ ہے کیونکہ جب یہ سب واقعات ہو چکے تھے اور عدالت ان فسادات پر تحقیقات کر رہی تھی۔ توخواجہ ناظم الدین صاحب سے 1953 میں لاہور میں ہونے والے جنرل اعظم صاحب کے آرمی کے ایکشن کی بابت سوال کیا گیا۔ انہوں نے جواب دیا:

I, however, accept responsibility for General Muhammad Azam’s action because taking over by the military was, in my opinion the only opinion the situation could be saved.

ترجمہ: البتہ میں جنرل محمد اعظم کے ایکشن کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں کیونکہ میرے نزدیک اس وقت ملٹری کا نظم و نسق سنبھالنا وہ واحد راستہ تھا جس سے صورت ِ حال بچائی جا سکتی تھی۔

اور اس بیان میں سابق وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب نے اقرار کیا کہ انہیں اطلاع مل چکی تھی کہ خود وزیر اعلیٰ پنجاب ممتاز دولتانہ صاحب احمدیوں کے خلاف فسادات کو ہوا دے رہے ہیں۔ اور اس غرض کے لئے وہ خود اخبارات میں احمدیوں کے خلاف کچھ اخبارات میں مضامین شائع کروا رہے ہیں۔ خواجہ ناظم الدین صاحب کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے۔ اور تحقیقاتی عدالت میں یہ ثابت ہوا تھا کہ ان اخبارات کو پنجاب کی حکومت نے ‘تعلیم بالغاں ‘ کے فنڈ سے رقم نکال کر اس رپورٹ کے مطابق ‘عطیہ غیبی ‘ کے طور پر دیئے تھے۔ باوجود اس کے کہ محکمہ تعلیم کے افسران نے اس پر احتجاج بھی کیا تھا۔)رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات ِپنجاب 1953 ص84-85 (

ہم نے صرف دو مثالیں پیش کی ہیں۔ اور ایسی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس فیصلہ میں جو تاریخی واقعات درج کئے گئے ہیں وہ درست نہیں ہیں۔ اب یہ سوال لازمی طور پر اُٹھتا ہے کہ جس فیصلہ میں درج حقائق ہی درست نہ ہوں تو کیا وہ فیصلہ عظیم فیصلہ کہلا سکتا ہے؟